Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شمالی کوریا کی جاسوس سیٹلائٹ بھیجنے کی دوسری کوشش بھی ناکام

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق خلاء میں جاسوس سیٹلائٹ بھیجنے کی دوسری کوشش بھی ناکام ہو گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے جاسوس سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کی دوسری کوشش ناکام ہو گئی ہے، تین ماہ قبل اس کا پہلا لانچ سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے لیے جاسوس سیٹلائٹ ایک اہم انعام ہے کیونکہ اس سے وہ آنے والے حملوں کی نگرانی کر سکیں گے اور اپنی منصوبہ بندی زیادہ درست طریقے سے کر سکیں گے۔

پیانگ یانگ کی خلائی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ اکتوبر میں دوبارہ کوشش کرے گی۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے مقامی وقت کے مطابق 3 بج کر 50 منٹ پر راکٹ کے لانچ کا پتہ لگایا اور اس نے چین اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان بحیرہ زرد کے اوپر بین الاقوامی فضائی حدود سے پرواز کی تھی۔

سیٹلائٹ تجربہ ناکام ہونے کے بعد جاپان کے جنوبی اوکیناوا میں ہنگامی انتباہ جاری کیا گیا تھا جس میں رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہیں لیکن تقریبا 20 منٹ کے بعد الرٹ ہٹا دیا گیا۔

جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا رویہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے اور ہم پہلے ہی اس پر سختی سے احتجاج کر رہے ہیں۔

امریکہ نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ مزید دھمکی آمیز سرگرمیوں سے باز رہے اور پیانگ یانگ پر زور دیا کہ وہ سنجیدہ سفارت کاری کرے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کی ایک خبر میں اس ناکامی کی ذمہ داری تیسرے مرحلے کی پرواز کے دوران ایمرجنسی بلاسٹنگ سسٹم میں خرابی کو قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مسئلہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سیٹلائٹ لے جانے والا راکٹ پچھلی کوشش کے مقابلے میں آگے چلا گیا۔

پیانگ یانگ میں حکام نے مئی میں کی جانے والی ناکام کوشش کو اپنی سب سے بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے دوبارہ کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

امکان ہے کہ رہنما کم جونگ ان اس وقت تک اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے جب تک وہ کامیاب نہیں ہو جاتے۔ وہ پہلے ہی اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ امریکہ سے بات چیت کی تمام پیشکشوں کو مسترد کر رہے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version