پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آئین کے مطابق ملک میں عام انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ الیکشن میں بلاوجہ تاخیر کے ذریعے ملک کو آئینی و سیاسی بحران کی جانب دھکیلنے سے گریز کیا جائے۔
بعد ازاں پی پی پی کی نائب صدر شیری رحمان، سیکٹری جنرل سید نیر حسین بخاری، سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شازیہ مری اور فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سیل بلاول ہاوَس میں پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو بلاول ہاوَس میں پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے جاری اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا مقصد تھا کہ انتخابات وقت پر ہوں، اس لیے مردم شماری کو منظور کیا جبکہ مردم شماری سے قومی اسمبلی کی نشستوں میں تبدیلی بھی نہیں آئے گی۔
سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ آئین میں واضح لکھا ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہوں گے، تاریخ کا اعلان کوئی بھی کرے، الیکشن کمیشن پابند ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد 90 دنوں کے اندر ہو۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت آئندہ کا لائحہ عمل الیکشن کمیشن سے پارٹی وفد کی ملاقات کے بعد لاہور میں منعقد مرکزی مجلس عاملہ کے آئندہ اجلاس میں کرے گی جبکہ پی پی پی کا وفد 29 اگست کو الیکشن کمشنر سے ملاقات کرے گا۔
شیری رحمان نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی مشرکہ قیادت میں سینٹرل ایگزیکیوٹو کمیٹی کا اجلاس تاحال جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجلاس میں مرکزی رہنماؤں سمیت تمام صوبوں کے نمائندے موجود ہیں، اجلاس کا ملک میں معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی غربت، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے ، بے قابو مہنگائی کی صورتحال اور ان مسائل کے حل پر فوکس رہا۔
شیری رحمان نے کہا کہ اجلاس نے پنجاب میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر امدادی سرگرمیوں کے لیے بھی حکمت عملی بنائی ہے ، اجلاس نے ملک میں عام انتخابات کے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور اس حوالے سے پارٹی کا واضح موقف ہے کہ 90 دن میں الیکشن ہونے سے متعلق آئین واضح ہے اس پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا ایک وفد 29 اگست کو الیکشن کمیشن جائے گا اور پارٹی موقف کو الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے گا۔چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ملنے والے جواب کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
شیری رحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک میں ہونے والی ڈجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات ہیں، حلقہ بندیوں کو وجہ بناکر انتخابات میں تاخیر نہیں کی جاسکتی جبکہ مردم شماری کے مطابق سیٹوں میں اضافہ نہیں ہونا۔
شیری رحمان نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکیوٹو کیمٹِ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ ماہ سے ملک بھر میں پارٹی کی جانب سے میمبرشپ مہم کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی اپنا انتخابی منشور تیار کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ جس طرح سندھ کی عوامی حکومت نے سیلاب متاثرین کی امداد اور لوگوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیئے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی توجہ خواتین اور اقلیتیوں کے حقوق پر بھی ہے، سب نے دیکھا ہے کہ ہمارے رہنما اظہارِ یکجہتی کے لیے جڑانوالہ بھی جاتے رہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور سب کو مساوی حقوق دینا ہے۔
سید نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ آئین میں عام انتخابات 90 دنوں کے اندار کرانے کا تو ذکر ہے لیکن حلقہ بندیوں کا نہیں ہے جبکہ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا میں ضمنی الیکشن کا اعلان کیا تو اس کا مطلب ہے کہ ملک میں عام انتخابات بھی بروقت ہوسکتے ہیں۔
اس موقعے پر میر چنگیز خان جمالی، سید حسن مرتضیٰ، علی مدد جتک، سردار محمد یعقوب، امجد ایڈوکیٹ اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔
