برطانوی عجائب گھر کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ عجائب گھر سے 2 ہزار سے زائد قیمتی نوادرات چوری ہو گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق برٹش میوزیم کے سربراہ جارج اوسبورن نے کہا کہ طویل عرصے سے برٹش میوزیم سے سونے کے زیورات اور جواہرات سمیت تقریبا 2 ہزار قیمتی نوادرات چوری ہو چکے ہیں لیکن ان کی بازیابی کی کوششیں پہلے ہی جاری ہیں۔

یہ عجائب گھر لندن کے مقبول ترین مقامات میں سے ایک ہے جس کے خزانوں میں روسیٹا پتھر بھی شامل ہے، جو ایک قدیم مصری آثار ہے جس پر ہائروگلف اور دیگر تحریریں لکھی ہوئی ہیں.
برٹش میوزیم کے مطابق 15 ویں صدی قبل مسیح سے لے کر 19 ویں صدی عیسوی تک کی اشیاء کو اسٹور روم سے لے جانے کے بعد عملے کے ایک رکن کو برطرف کر دیا گیا تھا۔
میوزیم کے ڈائریکٹر ہارٹ وگ فشر نے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ اپنے ذخیرے سے اشیاء کی چوری کی تحقیقات میں ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیں گے۔
برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ اوسبورن نے معروف برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ عجائب گھر کے تمام مجموعے کو مناسب طریقے سے فہرست یا رجسٹرڈ نہیں کیا گیا تھا، یہ صورتحال ان بڑے اداروں میں انوکھی نہیں ہے جن کے مجموعے سینکڑوں سالوں سے جمع کیے گئے ہیں۔

اوسبورن نے کہا کہ چوری ہونے والی چیزوں کا پتہ لگانے کے لیے ‘فرانزک’ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ تقریبا 2،000 اشیاء ہیں۔ لیکن مجھے یہ کہنا ہے کہ یہ ایک بہت ہی عارضی اعداد و شمار ہے اور ہم اب بھی سرگرمی سے تلاش کر رہے ہیں۔
اوسبورن نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ اس پر جان بوجھ کر کوئی پردہ ڈالا گیا تھا کیونکہ میوزیم نے اس سے قبل 2021 میں اس انتباہ کو مسترد کر دیا تھا کہ چوریاں ہو رہی ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















