متنازعہ اکسائی چن علاقے پر بھارتی دعوے کے باوجود چین نے سرحدی نقشے کے معاملے میں پرسکون رہنے کی ہدایت کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق چین نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ چین کے ایک نئے نقشے پر پرسکون رہے جس کے بارے میں دہلی کا کہنا ہے کہ وہ اس کے علاقے پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے اس وقت احتجاج کیا جب بیجنگ نے نقشہ جاری کیا جس میں شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش اور متنازعہ اکسائی چن کو چین کا علاقہ دکھایا گیا تھا۔
اس کے جواب میں بیجنگ نے کہا کہ اس کے ہمسایہ ممالک کو اس معاملے کی حد سے زیادہ تشریح کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
دریں اثنا میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اگلے ہفتے دہلی میں ہونے والے جی 20 رہنماؤں کے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کے بجائے وزیر اعظم لی کوانگ شرکت کریں گے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ وہ 9 سے 10 ستمبر تک ہونے والی اس ملاقات کے لیے دہلی جائیں گے لیکن چین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ میں ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔
نامعلوم ذرائع نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے نقشے کے تنازع پر اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔
چین نے اشارہ دیا کہ وہ نقشے پر مداخلت نہیں کر رہا ہے – متنازعہ سرحد ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے سالوں سے تعلقات کو خراب کیا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق چین کی خودمختاری کے استعمال میں یہ معمول کی بات ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق معروضی اور پرسکون رہیں گے اور اس معاملے کی حد سے زیادہ تشریح کرنے سے گریز کریں گے۔
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















