نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ ریونیو حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجکاری ڈویژن کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں نگران وزیراعظم کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجکاری ڈویژن کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایف بی آر حکومت کی جانب سے دیا جانے والا 9415 ارب روپے ٹیکس کلیکشن ٹارگٹ پورا کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے جبکہ جولائی 2023 کے 534 ارب روپے کے ٹارگٹ کے مقابلے 538 ارب کے محصولات اکٹھے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں نگران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اگست 2023 کے 648 ارب روپے کے ٹارگٹ کے مقابلے میں 669 ارب روپے کے محصولات اکٹھے کیے گئے جبکہ ڈومیسٹک ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے سال 2023-24 میں پچھلے مالی سال کے مقابلے 38.7 فیصد گروتھ دیکھنے میں آئی۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیکس جی ڈی پی شرح بڑھانے کے حوالے سے ڈیجیٹل اقدامات پر کام کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کو باقی اداروں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے
بریفنگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ ایف بی آر ایک ملین نیۓ ٹیکس پئیرز سسٹم میں لانے کے ہدف پر کام کر رہا ہے اور رواں سال 1,82000 نیۓ ٹیکس پئیرز سسٹم میں شامل ہوئے ہیں۔
نگران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پواینٹ آف سیلز کا دائرہ کار مزید شہروں اور ریٹیلرز تترجیحی بنیادوں پر بڑھایا جا رہا ہے جبکہ اس سال 20 ہزار ریٹیلرز پی او ایس میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ انٹگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم پر بھی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے جبکہ کسٹمز ڈیجیٹلاییزشن پر کام جاری ہے اور پاکستان سنگل ونڈو کو مزید سرکاری اداروں سے جوڑا جا رہا ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ اداروں کی نجکاری کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں جبکہ نجکاری ڈویژن سرکاری کارپوریشنز کی کارگردگی اور سروس ڈیلیوری کی بہتری اور اس حوالے سے نجی شعبے کی صلاحیتوں کے استمعال کرنے کے لیے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ فیڈرل بورڈ ریونیو حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہے، ٹیکس اصلاحات کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ ٹیکس ڈاکومینٹیشن کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے مابین روابط بہتر بنانے کی ضرورت ہے،ایسی سرکاری کارپوریشنز (SOEs) جو کہ نقصان میں جا رہی ہیں انکی نجکاری کا عمل تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تیز تر کیا جائے اور تمام وفاقی وزارتیں نجکاری ڈویژن کے ساتھ مکمل تُعاون کریں۔
اجلاس میں نگران وفاقی وزیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر شمشاد اختر، مشیر نگران وزیراعظم احد چیمہ ،وفاقی سیکرٹری خزانہ، وفاقی سیکرٹری ہوا بازی ، وفاقی سیکرٹری نجکاری ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
