نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح معیشت کی بہتری ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی اقدامات کر پائیں گے یا نہیں یہ وقت بتائے گا، اہداف کے حصول کیلئے ایمانداری سےکوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے کا اندازہ ہے، مقررہ وقت میں ہم اپنی ہرممکن کوشش کریں گے جبکہ وسط ایشیا اور یورپ کے ساتھ تجارت بھی بڑھائیں گے۔
انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن آف اکانومی کیلئے اقدامات کررہے ہیں، سستی توانائی کے بغیر برآمدات نہیں بڑھا سکتے جبکہ مسائل کی نشاندہی اور ان کاحل نکالنےکی کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ترجیحات طے نہیں کی گئیں، ہماری پہلی ترجیح معیشت کی بہتری ہے جبکہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج بھی معیشت ہے۔
نگراں وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار کے مہنگے معاہدے کئےگئے، بین الاقوامی معاہدے ختم کرنا مشکل ہوتا ہے، مقامی معاہدوں کو بہتر کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔ ایک طرف مشکل فیصلوں کیلئے دباؤ ہے اور دوسری طرف دباؤ ہےکہ آپ الیکشن کرائیں اور جائیں۔
انوار الحق نے کہا کہ ہم نہ طویل مدت کیلئے آئے ہیں اور نہ ہی ارادہ ہے، معیشت کیلئے مشکل فیصلےکرنے کا اختیار دیا گیا ہے، آنے والی حکومت فیصلوں کو آگے لے کر چل سکےگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں 90فیصد لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے، لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئےمشکل فیصلےکرنےپڑیں گے جبکہ ڈیجیٹلائزیشن سےکرپشن میں کمی آئے گی۔
انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں منصوبہ بندی ہوئی لیکن عملدر آمد نہیں ہوسکا، مشکل فیصلوں سےمستقبل میں بہتری آئےگی، ٹیکنالوجی کواستعمال کرکےٹیکس نیٹ بڑھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنا بوجھ نہیں اٹھارہے، بجلی چوروں کی وجہ سے غریب پر بوجھ بڑھ رہا ہے، ڈیڑھ سال پہلے بجلی کا بل دیکھ کر رونےکا دل کیا، مہنگے بجلی کے بلز پر عوام کی تکلیف کا احساس ہے لیکن کیاحکومت چند ہفتوں میں یہ مسائل حل کرسکتی ہے؟
نگراں وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی پی پی سے معاہدے ، بجلی چوری روکنا مشکل کام ہے، بجلی کے مسئلہ کے حل کیلئے مڈٹرم پلان چاہیے۔ ڈسکوز کی نجکاری کا عمل شروع کررہے ہیں، ڈسکوز بجلی چوری رکنے کے اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی پر ریلیف کیلئےآئی ایم ایف سےبات چیت جاری ہے، توانائی کی بچت کیلئےصوبوں سےمشاورت جاری ہے جبکہ مغرب تک کاروباری مراکز بند کرانے پر بھی بات ہورہی ہے، حکومت کی مدت پوری ہونے تک کچھ بہتری آئے گی۔
انوار الحق کا کہنا تھا کہ میثاق معیشت اچھا نعرہ ہے، میں اس کے حق میں ہوں، میثاق معیشت سیاسی جماعتوں نے کرنی ہے مصد سیاسی جماعتوں نے میثاق معیشت کو عوام میں لے جانا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نگراں سیٹ اپ ہیں ،میثاق معیشت ہمارا کام نہیں اور میں بحیثیت فردسیاسی جماعتوں کویہ ایجنڈ انہیں دے سکتا جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کومیثاق معیشت پربات کرنی چاہیے اور سیاسی جماعتوں کو مشترکہ نکات پر متفق ہونا چاہیے۔
انوار الحق نے کہا کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات میں سرمایہ کاری آنے کی امید ہے جبکہ امارات، سعودیہ، قطر نےسرمایہ کاری میں دلچسپی لی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا عوام کی آواز دبانے کا کوئی ارادہ نہیں، عوام کا ڈیٹا اکٹھا کرنا انتہائی حساس کام ہے، سوشل میڈیا سے متعلق عالمی قوانین بھی موجود ہیں، سوشل میڈیا کے معاشرے پر مختلف اثرات ہیں، سوشل میڈیا کو عوام کی آگاہی کیلئے استعمال کیاجاسکتا ہے لیکن دہشت گرد سوشل میڈیا سے انتہاپسندی پھیلاتے ہیں۔
انوار الحق کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کے اپنے مسائل ہیں،افغان حکومت سےبات چیت کرنا بھی اہم ہے ، افغانستان میں کچھ ہوتا ہے تو پورا ایشیا متاثر ہوتا ہے۔
نگراں وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 مئی میں ملوث لوگوں کودہشت گرد نہیں سمجھتا،9مئی میں ملوث افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے انتخابات فروری سے پہلے ہوجائیں، انتخابات کی تاریخ کااعلان الیکشن کمیشن نےکرنا ہے، الیکشن کیلئے نگراں حکومت اپنی تیاری مکمل رکھےگی۔
انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدر آمد کرنا سب کیلئے لازم ہے اگر سپریم کورٹ آف پاکستان 90 دن میں انتخابات کا فیصلہ دے گی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا، ووٹر اپنی پسندیدہ جماعت کو ووٹ دے سکتے ہیں، انتخابات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کوجلسوں، تحریر،تقریر کی اجازت ہوگی، معاشی اصلاحات کا پلان لانے والی جماعت کی حمایت کروں گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
