سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف مقدمہ سننے والے بنچ پر حکومتی اعتراضات مسترد کردیے۔
سپریم کورٹ نے چھ جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ تین ماہ بعد سنا دیا۔ حکومت نے چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر اعتراضات کیے تھے۔
آڈیو لیکس کمیشن حکومتی اعتراض مسترد#BOLNews #AudioLeaks pic.twitter.com/EJ4EzxwGUN
— BOL Network (@BOLNETWORK) September 8, 2023
حکومت نے مفادات کے ٹکرائو پر تینوں ججز کی بنچ سے علیحدگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی۔
سابقہ اتحادی حکومت نے پرویز الہی، چیف جسٹس کی خوش دامن سمیت 9 مبینہ آڈیوز کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں قائم آڈیو لیکس کمیشن کو پہلے ہی کام سے روک رکھا ہے۔
فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز پر اٹھائے گئے، فیصلہ بنچ پر حکومتی اعتراضات عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی متفرق درخواست مسترد کی جاتی ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
