بھارتی ریاست آندھرا پردیش کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ کو گرفتار کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ سابق چیف منسٹر نارا چندرا بابو نائیڈو اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 371 کروڑ بھارتی روپے کی مبینہ کرپشن کے اہم محرک، سازشی اور فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
سی آئی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اس کرپشن کے اہم محرک ہیں۔
آندھرا پردیش سی آئی ڈی کے سربراہ این سنجے نے کہا کہ تلگو دیشم پارٹی کے قومی صدر کو آج صبح گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ اس معاملے میں اہم ملزم ہیں اور ان کے جانچ پر اثر انداز ہونے کا خطرہ ہے۔
2014 میں آندھرا پردیش نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست بھر میں سیمنز سینٹر آف ایکسیلینس کے کلسٹر قائم کیے جائیں گے، جس میں ٹیکنالوجی پارٹنر سیمنز اور ڈیزائن ٹیک 90 فیصد گرانٹ ان ایڈ کے طور پر حصہ ڈالیں گے اور حکومت 3،300 کروڑ بھارتی روپے کی مبینہ طور پر بڑھائی گئی پروجیکٹ لاگت کا صرف 10 فیصد دے گی۔
اس مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) تیار کی گئی تھی ، لیکن سیمنز اور ڈیزائن ٹیک کے 90 فیصد تعاون کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ ایم او یو کو چندرا بابو نائیڈو اور ٹی ڈی پی کے ریاستی صدر کے اتچن نائیڈو دونوں نے منظوری دی۔
سی آئی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت کے وزیر گنتا سرینواس راؤ بھی اس سازش میں شامل تھے اور آندھرا پردیش اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام وزرا کی کونسل کو نظر انداز کرنے اور قواعد سے انحراف کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















