نگراں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے کہا ہے کہ توہین قرآن اور رسالت ناقابل قبول ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں وہ رفتہ رفتہ کم ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے علما سمجھتے ہیں یہ اچھی بات ہے، علما سے درخواست ہے کہ قوم کو مایوسی سے نکالیں، حکومت وقت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کے مسائل کو حل کیا جائے۔
انیق احمد کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اثرات ہم پر بھی پڑتے ہیں لیکن اچھے دن آئیں گے کام کا آغاز ہوچکا ہے، مفتی منیب الرحمن سے سوشل میڈیا کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین رسالت ناقابل قبول ہے،توہین آمیز مواد جو سوشل میڈیا پر آرہا ہے اس کو روکا جائے گا جبکہ کابینہ میں اس حوالے بات کروں گا اور فوری ایکشن لیا جائے گا۔
نگراں وزیر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سمت درست ہے آگے کی جانب بڑھ رہے ہیں ، علما کا قتل اور حملے بہت اہم مسئلہ ہے ،تحقیقاتی ادارے کام کررہے ہیں اور بہت آگے تک کام ہوچکا ہے، قاتلوں تک پہنچ چکے ہیں،بہت جلد قاتلوں کے نام آپ کے سامنے لے آئیں گے۔
اس موقع پر مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ انیق احمد کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان سے عوام کو درپیش مسائل پر گفتگو کی ہے، ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو توہین کے واقعات ہورہے ہیں ان کے قوانین میں ترمیم کی جائے، سوشل میڈیا کو اس حوالے سے کنٹرول کرنے کی تجویز دی ہے۔
مفتی منیب الرحمن نے مزید کہا کہ توہین رسالت کا قانون پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا، صدر مملکت کے پاس چلا گیا تھا اس پر دستخط نہیں کیے، یہ بھی اسی فارمولے کے تحت از خود قانون بن جانا چاہیے جس طرح آفیشل سیکرٹ ایکٹ قانون صدر کے دستخط نہ کرنے سے قانون بن گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
