Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مالی سال 2023 مشکل ثابت ہوا، سی ای او کے الیکٹرک

سی ای او کے-الیکٹرک مونس علوی کا کہنا ہے کہ متعدد چیلنجنگ سماجی و سیاسی اور میکرو اکنامک عوامل نے کے-الیکٹرک سمیت متعدد شعبوں کو متاثر کیا۔

سی ای او کے-الیکٹرک مونس علوی  نے ایک بیان میں کہا کہ افراط زر،پالیسی کی شرح میں اضافہ ، پیسے کی قدر میں کمی اور اقتصادی عوامل نے آپریشنز کو متاثر کیا جب کہ معاشی سرگرمیوں میں کمی نے بھی ترسیلی یونٹس میں %7.3 کمی کی۔

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹڈ ماحول میں تقسیم کار کمپنی صارفین کیلئے بجلی کی قیمت مقرر نہیں کرسکتی۔ حکومت کیطرف سے مقررکردہ قیمتوں میں اضافہ و میکرواکنامک دباؤ سے بلوں کی ادائیگی میں کمی سے کےالیکٹرک کی ریکوری%96.7 سے%92.8 ہوگئی اور مجموعی طور پر ان عوامل کے نتیجے میں کمپنی کو 30.9 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

مونس علوی کا کہنا تھا کہ ان چیلنجوں کے باوجود کے-الیکٹرک نے ویلیوچین میں سرمایہ کاری جاری رکھی۔ کامیابیوں میں 900 میگاواٹ BQPS-III کا آغاز اورKKI 500kV اور دھابیجی 220kV گرڈز پر پیشرفت شامل ہے۔ ہمارا 484ارب روپے سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی نیٹورک میں ترقی اور صارفین کے بھروسے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوری2023 میں ہم نے اپنے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ %30 تک بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو اور سستی توانائی تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ہم نے نان ایکسکلیوسو لائسنس کے لیے درخواست کی منظوری حاصل کی، جو ایک اہم سنگ میل ہے۔

سی ای او کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ہم پاور سیکٹر کی لبرلائزیشن پر بات چیت میں شامل رہے ہیں اور اس نئی ڈیویلپمنٹ بارے حکومت کی پالیسی لیول کی رہنمائی کے مزید منتظر ہیں۔ اس سلسلے میں موجودہ پالیسیاں 1MW اور اس سے اوپر کے لیے لاگو ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورننس میں مزید بہتری کیلئے اقدامات کئے،صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھا،100ٹن وزنی چوری میں ملوث کنڈے ہٹائے اور واجبات کی ادائیگی میں ایک لاکھ صارفین کی مدد کی۔نیپرا ہدایات کے مطابق پرانے واجبات والے کنکشن منقطع کیے۔چوری و بلوں کی عدم ادائیگی میں کمی ہماری توجہ کا بنیادی مرکز ہے۔

مونس علی نے کہا کہ اگرچہ رواں مالی سال مشکل صورتحال کا سامنا کیا لیکن کراچی کیلئے ہمارا عزم مضبوط ہے۔ ہم مناسب قیمت پر قابل اعتماد سروس فراہم کرنے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت پاکستان اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version