سپریم کورٹ نے خاتون ہراسانی کیس میں سابق نادرا ملازم کی ملازمت پر بحالی کی درخواست خارج کر دی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نادرا کے پاس قانونی اختیارات ہیں اس معاملے پررٹ نہیں کرسکتے، لاہورہائی کورٹ پہلے ہی آپ کی درخواست خارج کر چکا ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ہمیں صرف الزام کی بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا گیا، شواہد موجود نہیں جس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ معاملہ کیا تھا؟ انکوائری کس بنیاد پر ہوئی؟
وکیل نے بتایا کہ کہا گیا کہ ایک کسٹمر خاتون کو واٹس ایپ میسج کیے لیکن کوئی اسکرین شاٹ پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ انکوائری تو ہوئی ہے ناں، انکوائری رپورٹ کے مطابق آپ نے میسج کرنے کا اعتراف کیا۔
درخواست گزارکے وکیل نے کہا کہ آپ ہماری درخواست مسترد نہ کریں، ہم واپس لے لیتے ہیں۔
واضح رہے کہ سیالکوٹ میں نادرا کے جونیئر افسر کو صارف خاتون کو واٹس ایپ میسج کرنے پر ملازمت سے برخاست کیا گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
