Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری سب سے زیادہ ہے، سراج الحق

سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری سب سے زیادہ ہے۔

 تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75 سال گزرنے کے باوجود انگریزوں کا قانون آج بھی موجود ہے، آج مہنگائی کی وجہ سے25 کروڑ عوام کے لیے گھر چلانا مشکل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں 5 روپے فی یونٹ مل سکتی ہے لیکن حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے 56 روپے یونٹ ملتی ہے۔

 انہوں نے  کہا کہ آٹا ، چینی ، دالیں اتنی مہنگی ہوئی ہیں جیسے یہ چاند سے لیکر آتے ہیں جبکہ بھارت چاند کے بعد سورج کی جانب جا رہا ہے لیکن پاکستان کے عوام آٹے اور چینی کے لیے سڑکوں پر ہے۔

سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ ہماری اس تحریک کا مقصد ظلم اور جبر کے خلاف جہاد ہے، آئی ایم ایف کے قرضے حکمرانوں نے لیے لیکن یہ قرض عوام سے لیا جا رہا ہے ، قرضہ لینے والے اشرافیہ کے اثاثے بیچ کر قرضے اتارے جانے چاہیں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ دنیا میں سال میں ایک بجٹ جبکہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں 365 روز بجٹ پیش کیے جاتے ہیں، ملک میں سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن مہنگا تیل خرید کر عوام کے لیے بجلی مہنگی کی جاتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں چاہیے کہ بلوچستان کو ترقی دینے میں کردار ادا کریں، بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری سب سے زیادہ ہے جبکہ افغانستان ، ایران اور بنگلہ دیش میں پاکستان سے مہنگائی کم ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر اعظم، چئیرمین سینیٹ اور چیف جسٹس بلوچستان سے ہیں ، انہیں چاہیے کہ بلوچستان کو ترقی دینے میں کردار ادا کریں۔

سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ حکمرانوں نے 4 کھرب روپے کے قرضے معاف ہو سکتے ہیں لیکن عوام کے چند ہزار کے بل کی خاطر سزا دی جاتی ہے، اس ملک کو لوٹنے والوں سے پیسے نکال کر قومی خزانے میں جمع ہونے چاہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے پر زرداری اور شہباز شریف نے ساتھ دینے کا مطالبہ کیا لیکن ہم نے حمایت نہیں کی، جماعت اسلامی انقلابی جماعت ہے ، اسلامی قانون چاہتے ہیں۔

سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے 16 ماہ میں اپنے کیسز ختم کرائے اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے مفادات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو واپس لیا جائے جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام ایوانوں میں پہنچ کر اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں

Exit mobile version