بھارت کی سپریم کورٹ نے پہلی بار ایک گونگے اور بہرے وکیل کی جانب سے سائن لینگویج کا استعمال کرتے ہوئے مترجم کے ذریعے دلائل دیے گئے کیس کی سماعت کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ورچوئل کارروائی کا انتظام کرنے والے کنٹرول روم نے گونگی اور بہری وکیل سارہ سنی کو اسکرین اسپیس دینے سے انکار کردیا تھا۔
انکار کے بعد جلد ہی ان کے مترجم سوربھ رائے چودھری اسکرین پر نمودار ہوئے جب ان کی سماعت کی باری آئی اور مسٹر چودھری نے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کے سامنے اپنے دلائل شروع کیے۔
اس کے بعد چیف جسٹس چندرچوڑ نے کنٹرول روم اور مترجم کو ہدایت دی کہ وہ وکیل سارہ سنی کو اسکرین اسپیس دیں۔ اس کے بعد دونوں اسکرین پر آئے اور سپریم کورٹ کے سامنے اپنے دلائل دیے۔
واضح رہے کہ گونگی اور بہری وکیل سارہ سنی کی پیشی کا انتظام ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سنچتا این نے کیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندرچوڑ انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال انہوں نے سپریم کورٹ کمپلیکس کے تفصیلی آڈٹ کا حکم دیا تھا تاکہ انصاف کے نظام کو مزید قابل رسائی بنایا جا سکے اور معذور افراد کو عدالت میں آنے پر درپیش چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندرچوڑ دو معذور لڑکیوں کے گود لینے والے والد بھی ہیں۔
اس سال کے اوائل میں سپریم کورٹ میں ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا تھا جب چیف جسٹس چندرچوڑ اپنی گود لی ہوئی دو بیٹیوں کو اپنے کام کی جگہ کے یادگار دورے کے لیے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بتایا کہ عدالت نے کیسے کام کیا اور انہوں نے وہاں کیا کیا۔
سنچتا این نے بھارتی نیوز چینل کو بتایا کہ اس لمحے کی اہمیت ان چیلنجوں سے جڑی ہوئی ہے جو ہندوستانی قانونی نظام کے اندر حقیقی شمولیت اور رسائی کی راہ پر گامزن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سائن لینگویج کی رسائی کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔
اتوار کے روز سپریم کورٹ نے بھی پہلی بار بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنے دو روزہ قومی اسٹیک ہولڈرز مشاورت میں سائن لینگویج کے مترجموں کا استعمال کیا۔
تقریب کا دعوت نامہ اور پروگرام کی تفصیلات پہلی بار بریل میں جاری کی گئیں تاکہ نابینا افراد کو ان کو پڑھنے میں مدد مل سکے، سالانہ تقریب کا اہتمام سپریم کورٹ کمیٹی برائے جووینائل جسٹس اینڈ چائلڈ ویلفیئر نے کیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
