Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سری لنکا کے لیے آئی ایم ایف کے نئے فنڈز میں تاخیر کا خدشہ

معاشی بدحالی سے نبرد آزما سری لنکا سے بری خبر آئی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے بیل آؤٹ پیکج میں تاخیر کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق عالمی قرض دہندہ کا کہنا ہے کہ وہ 2.9 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت اپنے پہلے جائزے میں سری لنکا کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ نہیں کرسکا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ 2.9 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت اپنے پہلے جائزے میں سری لنکا کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ نہیں ہو سکا، جس کی وجہ حکومت کی آمدنی میں ممکنہ کمی ہے۔

آئی ایم ایف وفد کے سربراہ پیٹر بریور حال ہی میں پاکستان کے دو ہفتے کے دورے سے واپس آئے تھے۔

پیٹر بریور کا کہنا تھا کہ قرض دینے کے پروگرام کے تحت تقریبا 33 0 ملین ڈالر کی دوسری قسط آئی ایم ایف کے عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچنے کے بعد ہی جاری کی جائے گی، اور اس بارے میں کوئی مقررہ ٹائم لائن نہیں ہے کہ یہ کب ہوگا۔

آئی ایم ایف وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سری لنکا نے مشکل لیکن انتہائی ضروری اصلاحات کے نفاذ میں قابل ستائش پیش رفت کی ہے۔

آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا کہ جزیرے کی کوششوں کے ثمرات مل رہے ہیں کیونکہ معیشت میں استحکام کے عارضی اشارے مل رہے ہیں۔

پیٹر بریور کے مطابق فرسٹ ریویو کے تناظر میں سری لنکا کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھے گی جس کا مقصد مستقبل قریب میں عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچنا ہے۔

آئی ایم ایف کے وفد نے کہا کہ استحکام کے ابتدائی اشارے کے باوجود مکمل معاشی بحالی ابھی تک یقینی نہیں ہے اور ترقی کی رفتار سست ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران سری لنکا میں افراط زر کی شرح ستمبر میں کم ہو کر 1.3 فیصد رہ گئی ہے، اس کی کرنسی میں تقریبا 12 فیصد اضافہ ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔

لیکن سری لنکا اپنی آمدنی کو بہتر بنانے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے اور نومبر کے وسط میں آنے والے بجٹ میں اضافی اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں محصولات میں بہتری کے باوجود رواں سال کے اختتام تک محصولات ابتدائی تخمینوں سے تقریبا 15 فیصد کم رہ جائیں گے۔

آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ جزوی طور پر معاشی عوامل کی وجہ سے مالی ایڈجسٹمنٹ کی ذمہ داری عوامی اخراجات پر عائد ہوگی۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ اگر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو یہ ضروری عوامی خدمات کی فراہمی کی حکومت کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے اور قرضوں کی پائیداری کا راستہ کمزور کر سکتا ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں