حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں بینک آف اسرائیل نے پہلی بار 30 بلین ڈالرغیرملکی کرنسی اوپن مارکیٹ میں بیچنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں اسرائیلی کرنسی کی قدر ساڑھے 7 سال کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی جس کے بعد اسرائیلی بینک کی جانب سے بڑا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بینک آف اسرائیل نے پہلی بار 30 بلین ڈالرغیرملکی کرنسی اوپن مارکیٹ میں بیچنے کا اعلان کیا ہے، بینک آف اسرائیل نے یہ اقدام حماس کے حملوں کے دوران کرنسی کی گرتی قدر کو سنبھالنے کیلئے اٹھایا ہے۔
بینک آف اسرائیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال اور مارکیٹس کا جائزہ لیتے رہیں گے اور صورتحال کے پیش نظر تمام دستیاب وسائل کے ساتھ کام کریں گے۔ بینک آف اسرائیل نے کہا کہ سوئپ میکنیزم کے ذیعے مارکیٹ میں 15 بلین ڈالر تک لیکویڈٹی فراہم کریں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی بمباری میں اب تک 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 2300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
