شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا ظلم پر تماشائی نہ بنے، بے گناہ انسانوں کا قتل عام رکوانے کے لئے عملی اقدام کرے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بچوں سمیت نہتے عام فلسطینی شہریوں پر ہزاروں ٹن بارود برسانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری بمباری رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے اسرائیلی حملوں سے سینکڑوں بچوں سمیت 2 ہزار سے زائد شہادتوں پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ صیہونی ریاست عالمی قانون اور انسانیت کی تمام حدیں پامال کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور سلامتی کونسل فلسطینیوں کے زندہ اور آزاد رہنے کے مسلمہ قانونی حق کا تحفظ اور پاسداری یقینی بنائے ورنہ دنیا راکھ کا ڈھیر بن جائے گی۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ سات دہائیوں سے ایک قابض فوج فلسطینیوں پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے، سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کراتی تو آج یہ حالات پیدا نہ ہوتے، صیہونی ریاست دہائیوں سے نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے تاکہ بے گناہوں کا بہتا لہو روکا جا سکے، ہسپتالوں کو خالی کرانا، صحافیوں کو نشانہ بنانا قتل عام کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔
شہباز شریف نےکہا کہ دنیا ظلم پر تماشائی نہ بنے، بے گناہ انسانوں کا قتل عام رکوانے کے لئے عملی اقدام کرے، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے پلیٹ فارم سے فلسطینیوں کے لئے پانی، خوراک، ادویات کی فوری فراہمی شروع کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام اسلامی ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیں، بے گھر فلسطینیوں کے لئے پناہ گاہوں کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں جبکہ خواتین ، بچوں، ضعیفوں کے لئے خوراک اور علاج کی سہولیات کی فراہمی کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہسپتالوں، اسکولوں اور عام آبادیوں کو بمباری کا نشانہ بنانا جنگ نہیں کھلا ظلم وبربریت ہے، امن اور القدس الشریف دارالحکومت کی حامل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک فلسطینیوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
