Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قاہرہ اجلاس، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی مسترد

غزہ کی صورتحال پر ہونے والے قاہرہ اجلاس میں عرب رہنماؤں نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ اجلاس میں کہا ہے کہ وہ جزیرہ نما سینا میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرتے ہیں.

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب رہنماؤں کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے السیسی نے کہا کہ اس مسئلے کا واحد حل فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست ہے۔

اجلاس کا آغاز اس وقت ہوا جب امدادی سامان لے جانے والے 20 ٹرک رفح کی سرحد عبور کر رہے تھے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ امدادی سامان ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے روزانہ تقریبا 500 ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے تھے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں رہنے والے تقریبا 1.2 ملین افراد پہلے ہی غذائی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

غزہ پہنچنے والی امدادی سامان کی تقسیم اقوام متحدہ کے سپرد ہو گی جو اس کا زیادہ تر حصہ اقوام متحدہ کے اسکولوں اور اسپتالوں میں بھیجا جائے گا۔

غزہ میں ٹرکوں کو داخل ہوتے ہوئے دیکھ رہے برطانوی خبر رساں ادارے کے نامہ نگار نے بتایا کہ ان میں سے ایک ٹرک تابوت سے بھرا ہوا تھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ امداد صرف جنوبی غزہ کے لیے ہے اور شمالی غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے اپنے گھر بار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں وادی غزہ کے جنوب میں علاقے کے وسط میں منتقل ہونا چاہیے۔

تاہم قاہرہ میں منعقد ہونے والے ‘سمٹ فار پیس’ سے خطاب کرتے ہوئے السیسی نے کہا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

اس سربراہی اجلاس کا مقصد تنازعہ کو پھیلنے سے روکنا ہے، تاہم کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہا اور بہت سے یورپی رہنما بھی وہاں موجود نہیں ہیں۔

السیسی نے کہا کہ کسی منصفانہ حل کے بغیر فلسطینی کاز کا خاتمہ کبھی نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی بھی طرح مصر کی قیمت پر ہوگا۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے مصری صدر کے بیان کی حمایت کی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے فلسطینیوں کو وہاں سے نکلنے پر کسی صورت مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

محمود عباس نے مزید کہا کہ چاہے جو بھی چیلنجز ہوں ہم کبھی بھی منتقلی کو قبول نہیں کریں گے اور ہم اپنی زمین پر رہیں گے۔

مصر اور دیگر عرب ریاستوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ سے فرار ہونے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی آمد ناقابل قبول ہوگی کیونکہ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے مترادف ہوگا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں