ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ پر حملے بند کر گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ پر حملے بند نہ کیے تو مشرق وسطیٰ کے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ اسرائیل کو فوجی مدد فراہم کرنے کا ذمہ دار امریکہ بھی ہے۔
وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے بیان کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجیوں کو متنبہ کیا کہ ان کے عوام اپنی زندگیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں اور حماس کے خلاف جنگ ‘کرو یا مرو’ ہے۔
ایران حماس اور لبنان کی حزب اللہ دونوں کی حمایت کرتا ہے جس نے دو ہفتے قبل اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران غزہ میں 5 ہزرا سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ فضائی حملوں میں تیزی لا رہا ہے۔
تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر عبداللہیان نے کہا کہ میں امریکہ اور اس کے پراکسی اسرائیل کو متنبہ کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کو فوری طور پر بند نہ کیا تو کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہے اور خطہ قابو سے باہر ہو جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ نتائج شدید، تلخ اور علاقائی اور جنگ کی وکالت کرنے والوں کے لئے دور رس نتائج ہوسکتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل کے لئے امریکی فوجی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں جاری تنازعہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی پراکسی جنگ ہے۔
امریکہ کے اعلیٰ حکام بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تنازعہ پھیل سکتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجیوں یا شہریوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















