فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد اب 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے نے فلسطینی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 7 اکتوبر سے اسرائیل غزہ سے 4 ہزار اور مقبوضہ مغربی کنارے سے ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر چکا ہے۔
اسرائیل نے محصور غزہ کی پٹی پر بمباری شروع ہونے کے بعد سے دو ہفتوں میں اتنے فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے کہ اس کی تحویل میں موجود فلسطینیوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے اور مجموعی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
7 اکتوبر سے قبل اسرائیلی جیلوں میں تقریبا 5200 فلسطینی قید تھے جب فلسطینی مسلح مزاحمتی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا.
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیل نے غزہ سے تقریبا چار ہزار مزدوروں کو گرفتار کیا ہے جو اسرائیل میں کام کر رہے تھے اور انہیں فوجی اڈوں میں رکھا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رات بھر فوج کے چھاپوں میں 1070 دیگر فلسطینیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
رملہ میں قائم قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ کی سربراہ سحر فرانسس نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گرفتاریاں دن کے 24 گھنٹے ہو رہی ہیں۔
سحر فرانسس نے کہا کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد کو جنوبی صحرائے نقب میں بیر السبع (بیئر شیوا) کے قریب واقع سدے تیمان نامی فوجی اڈے پر رکھا گیا ہے۔
سیکڑوں افراد کو رام اللہ کے قریب اوفر جیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے گاؤں اناتا کے قریب اناتوت فوجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔
فلسطینی وکلاء اور حکام نے ان سنگین بدسلوکی اور سنگین حالات پر روشنی ڈالی ہے جن کے تحت قیدیوں کو گرفتار اور قید میں رکھا جا رہا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















