اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف الیون میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو الاٹ شدہ پلاٹ پر تعمیرات سے روک دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف الیون میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو پلاٹ الاٹ کرنے کے خلاف ٹیچرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس میاں گل حسن نے ایف الیون میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کو الاٹ شدہ پلاٹ پر تعمیرات سے روکتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں منظور یا مسترد والا معاملہ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے بلائیں گے۔
عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ مکمل فائل جمع کروائیں، یقین دہانی کرائیں کہ وہاں پلاٹ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیچرزایسوسی ایشن کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کردیا۔ درخواست گزار فضل مولا کی جانب سے کاشف ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سی ڈی اے کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پرجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اظہاربرہمی کیا، کہا کہ ایسے کاموں سے سی ڈی اے کا جو صحیح کام ہوتا ہے وہ بھی شک میں پڑجاتا ہے۔
عدالت نے ڈی جی فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی عدم تعیناتی پر وفاقی حکومت پر بھی برہمی کا اظہارکیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسارکیا کہ ڈی جی فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کیوں نہیں تعینات ہوا اس کے رول کیا ہیں؟ کیا میکنزم ہے کیوں جوائنٹ سیکرٹری کو وہاں بٹھایا ہوا ہے رولز دکھائیں، ابھی تک تعیناتی نہیں ہوئی آپ کے اس رویے پر شرم کا مقام ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے ڈی جی ایف ڈی ای کی تعیناتی کا پراسس شروع کیا؟ ڈی جی ایف ڈی ای کی تعیناتی سے متعلق ایک ہفتے میں اپنے کمنٹس فائل کریں۔
وکیل کاشف ملک نے مؤقف اپنایا کہ پچھلے ڈی جی ایف ای ڈی کو پلاٹ سے متعلق لکھنے پر ٹرانسفر کیا گیا، جس پرجسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ پیسے ہیں نہیں پاکستان کے پاس اوراسکولز پرائیویٹ کرینگے کیا آپکا بس یہی مؤقف ہے؟ وفاقی حکومت تین ہفتوں میں رپورٹ جمع کروائے تب تک پلاٹ پر کوئی اینٹ بھی نہیں لگے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھرسے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
