بنگلہ دیش میں حکومت مخالف ریلی نکالنے پر اپوزیشن لیڈر عالمگیر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق بنگلہ دیش میں جنوری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ملک کی حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر حزب اختلاف کی سرکردہ شخصیت کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کمشنر حبیب الرحمٰن نے کہا کہ عالمگیر کو ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کے بارے میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
اس مظاہرے میں ایک پولیس افسر اور ایک شخص ہلاک جبکہ دونوں اطراف کے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
بنگلہ دیش کے ایک اخبار نے عالمگیر کی اہلیہ راحت آرا بیگم کے حوالے سے بتایا کہ پولیس آئی اور ہماری عمارت سے تمام سی سی ٹی وی کیمرے قبضے میں لے لیے۔

عالمگیر کی گرفتاری سے بنگلہ دیش کی حزب اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے جو اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل ہے، جس میں ملک کے اگلے وزیر اعظم کا فیصلہ کیا جائے گا۔
حزب اختلاف کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور بی این پی کی دیرینہ رہنما سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء اصل میں گھر میں نظربند ہیں۔
حزب اختلاف کی شخصیات نے بنگلہ دیش کے بانی رہنما کی بیٹی اور وزیر اعظم شیخ حسینہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 سال سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد ان پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
حسینہ واجد کے دور حکومت میں بنگلہ دیش نے مستحکم معاشی ترقی حاصل کی ہے لیکن افراط زر میں بھی اضافہ دیکھا ہے جس کی وجہ سے بہت سے شہریوں کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ان کی حکومت پر بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں جن میں ایک نئے سائبر سکیورٹی قانون کے ذریعے اپوزیشن کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
بنگلہ دیش میں گزشتہ چند انتخابات، خاص طور پر 2018 کے حالیہ انتخابات کو مبینہ بے ضابطگیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















