Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیب ترامیم کیخلاف کیس؛ جسٹس منصور علی شاہ کا27 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری

سپریم کورٹ کے جسٹس منصورعلی شاہ کا نیب ترامیم کیخلاف کیس میں 15 ستمبرکے فیصلے سے اختلافی نوٹ جاری کردیاگیا۔

سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف کیس میں جسٹس منصورعلی شاہ کا 27 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کیا گیا۔ عدالت نے 15 ستمبر کو نیب ترامیم کو کالعدم قراردیا تھا۔

عدالت عظمٰی نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیا تھا جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدلیہ قانون سازی کا اس وقت جائزہ لے سکتی ہے جب وہ بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو، قانون سازوں کے مفاد کو سامنے رکھ کر قانون سازی جانچنا پارلیمنٹ اور جمہوریت کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اداروں کے درمیان احترام کا باہمی تعلق قائم ہو، پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔

جسٹس منصورعلی شاہ کے اختلافی نوٹ کے مطابق عدلیہ کو اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ نیب ترامیم سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، سابق چیف جسٹس اور جسٹس اعجازالاحسن نے درخواست گزار کا مؤقف تسلیم کر لیا۔

اختلافی نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ نیب ترامیم براہ راست بنیادی حقوق سے متعلق ہیں، بنیادی حقوق کی ضمانت ترقی پسند، لبرل اور متحرک نقطہ نظر کے ساتھ آئین میں دی گئی ہے، بنیادی حقوق کا یہ مطلب نہیں کہ ججز کو آئینی الفاظ اور تاثرات کو مصنوعی معنی دینے کی آزادی ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اختلافی رائے رکھنے والا ہجوم کی سمت میں نہیں، مستقبل کی سمت میں چلتا ہے، عدالتوں کو پاپولرسیاسی بیانیے پرنہیں چلنا ہوتا، عوامی جذبات کے خلاف جا کر بھی عدالت کو آئین و قانون کے مطابق فیصلے دینا ہوتے ہیں، نیب قانون کے تحت ججز اور فوجی افسران کا احتساب ہو سکتا ہے، نیب ترامیم کیس کی 50 سماعتوں پر یہ سوال کیا کہ کیا فوجی افسران اور ججز کا احتساب ہو سکتا ہے؟ اداروں کے درمیان توازن اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اداروں کے درمیان احترام کا باہمی تعلق قائم ہو۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پارلیمانی نظام حکومت میں عدلیہ کو ایگزیکٹو یا مقننہ کے مخالف کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے، عدلیہ کو اس وقت تک تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک آئینی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو، درخواست گزار نیب ترامیم کوعوامی مفاد کے برعکس ثابت کرنے میں ناکام رہا، میں آئین کے آرٹیکل 8(2) کے مد نظر درخواست کو میرٹس پر نہ ہونے وجہ سے خارج کرتا ہوں،  پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے تمام قوانین بالاخر کسی نہ کسی انداز میں بنیادی حقوق تک پہنچتے ہیں۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے لکھا کہ پارلیمنٹرین کا قانون چیلنج کرنے کا حق دعوی نہیں بنتا، جمہوری نظام میں اکثریت کا ہی فیصلہ یا قانون سازی حتمی تصور ہوتی ہے، اکثریت سے منظور قانون سازی کو حمایت میں ووٹ دینے والوں کے بجائے پورے پارلیمنٹ کی قانون سازی سمجھا جانا چاہئے، پارلیمنٹ میں قانون سازی سے اختلاف کرنے والے اس کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

جسٹس منصورعلی شاہ کی جانب سے اختلافی نوٹ میں مذید کہا گیا کہ عدالت پارلیمنٹ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، درخواست گزارکے وکیل نیب ترامیم کو بنیادی حقوق کے خلاف ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، پارلیمنٹ جو کر سکتی ہے اس کو ختم بھی کرسکتی ہے، مسلسل سوال کے باوجود درخواست گزار نہیں بتا سکے کہ نیب ترامیم سے بنیادی حقوق کیسے متاثر ہوئے۔

اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version