اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے رکن ممالک کی جانب سے تنقید کے بعد احتجاجاً نازی دور کا پیلا بیج اپنے سینے پر لگا لیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے حماس کے مظالم کی مذمت کرنے میں ناکامی پر تنظیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نازی دور کا پیلے ستارے والا بیج لگا لیا۔
اسرائیلی سفیر نے کہا یہ میں نے یہ بیج دنیا کو ماضی میں ہونے والے واقعات کی واضح یاد دہانی کے لیے لگایا جب دنیا خاموش رہی تھی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اپنے خطاب کے دوران اسرائیلی سفیر گیلاڈ ایردان نے 7 اکتوبر کو حماس کے دہشت گرد انہ حملے کا موازنہ ان کے دادا چیم اور ان کے بچوں سے کیا جب نازیوں نے انہیں اپنی زندگیوں سے بے دخل کر کے آشوٹز لے جایا تھا۔
اجلاس کے دوران ایردان نے کہا کہ جب ان کی لاشوں کو لاکھوں دیگر یہودی بچوں کے ساتھ جلایا گیا تو دنیا خاموش تھی۔
סיפרתי למועצה שבסמוך לטבח, הפיהרר חמינאי צייץ ללא הרף דברי שטנה והסתה נגד ישראל: הוא טען שישראל גוססת וקרא להשמדתה. אם להיטלר היה חשבון טוויטר, הוא היה נראה בדיוק כמו של חמינאי. ואת נציגי הרוצח הזה, מזכ״ל האו״ם פוגש בלי מילת גינוי. איזו חרפה!
צפו ורטווטו >> pic.twitter.com/Mj6OQzUjKu— Ambassador Gilad Erdan גלעד ארדן (@giladerdan1) October 31, 2023
اسرائیلی سفیر نے کہا کہ آج بے گناہ یہودی بچوں کو زندہ جلانے کے بعد یہ کونسل اب بھی خاموش ہے۔ آپ میں سے کچھ نے پچھلے 80 سالوں میں کچھ نہیں سیکھا ہے.
سفیر نے اپنے وفد کے ساتھ مل کر پیلے رنگ کے ستاروں والا بیج نکالا جو ہولوکاسٹ کے دوران نازی جرمنی کی طرف سے یہودیوں کو پہننے پر مجبور کیا گیا تھا.

اسرائیلی سفیر نے کونسل کو بتایا کہ میرے دادا دادی اور لاکھوں یہودیوں کے دادا دادی کی طرح اب سے میں اور میری ٹیم پیلے ستارے والے بیج پہنیں گے۔
نازی جرمنی نے 1939 سے دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک یہودیوں کی شناخت کے لیے اسٹار آف ڈیوڈ بیج کا استعمال کیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















