اسرائیلی فوج نے غزہ میں انٹرنیٹ اور فون لائن کی سہولت منقطع کر دی ہے، مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ٹیلی کام فرم پالٹل نے کہا ہے کہ اسرائیل نے آج رات غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ اور فون لائنوں کو منقطع کر دیا ہے، جو 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کی جنگ کے آغاز کے بعد تیسری بار ہوا ہے۔
پالٹل نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سرورز منقطع کرنے کے بعد غزہ میں مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
غزہ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کسی نئے اور بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، انٹرنیٹ اور فون لائن بند کرنا اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے آج کہا ہے کہ گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے فلسطینی علاقے میں کم از کم 9،770 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ میں تازہ ترین حملوں میں وزارت صحت نے کہا ہے کہ ہفتے کی رات المغازی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں 45 افراد شہید ہو گئے، ایک عینی شاہد نے بتایا کہ چھوٹے بچے بھی اپنی جان نہ بچا سکے اور گھر تباہ ہو گئے۔
غزہ کی گنجان آباد پٹی کے شمال میں 30 روز سے جاری جنگ کے بعد عرب ممالک اور مایوس شہریوں کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود زمینی لڑائی جاری ہے جس میں ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
وزارت نے کہا کہ جنوبی اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے سات اکتوبر کو کیے گئے حملوں کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملے شروع کیے ہیں جس کے بعد سے شہید ہونے والوں میں کم از کم 4800 بچے شامل ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















