Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نایاب بیماری، دوا کی ایک خوراک کی قیمت 2 ملین ڈالر

بھارت کے دو بچے نایاب بیماری میں مبتلا ہیں جس کے علاج کے لیے دوا کی ایک خوارک کی قیمت 2 ملین ڈالر سے زائد ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے عفان اور ارحان کو ریڑھ کی ہڈی کے عضلات میں ایک نایاب بیماری کا سامنا ہے جس کے علاج میں استعمال ہونے دوا کی ایک خوراک 2.1 ملین ڈالر ہے۔

سات سالہ عفان اور پانچ سالہ ارحان کو ایس ایم اے نامی اس نایاب بیماری کی وجہ سے پٹھوں میں خرابی کا سامنا ہے، جبکہ اس بیماری کی وجہ سے سانس لینے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔

اس بیماری کی وجہ سے عفان اور ارحان کو مستقل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ دونوں بچے نہ تو آزادانہ بیٹھ سکتے ہیں، نہ کھڑے ہو سکتے ہیں اور نہ ہی چل سکتے ہیں۔

عفان اور ارحان کے اہل خانہ کے مطابق اس بیماری کا علاج انتہائی مہنگا ہے، صرف فزیو تھراپی کی اپائنٹمنٹ پر ماہانہ 395 ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

عفان اور ارحان کی ماہ زیبا غفران کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کے لیے جین تھراپی کو آزمانا چاہتے ہیں لیکن ایک خوراک کی 2.1 ملین ڈالر کی قیمت کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے۔

زولجینسما جین تھراپی جو عفان اور ارحان کے علاج میں استعمال ہو گی وہ دنیا کی مہنگی ترین دوا ہے۔

اس نایاب بیماری میں مبتلا بھارتیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

لیکن موجودہ لٹریچر سے پتہ چلتا ہے کہ ایس ایم اے نامی یہ نایاب بیماری تقریبا 10،000 زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک کو متاثر کرتا ہے.

ایک مطالعہ کے مطابق 38 میں سے ایک بھارتی ایس ایم اے کا سبب بننے والے ناقص جین کا شکار ہے، جبکہ مغرب میں 50 میں سے ایک شخص ہے۔

اگرچہ نایاب بیماریوں کا علاج ہر جگہ مہنگا ہے ، لیکن حکومت یا ہیلتھ انشورنس کمپنیاں کچھ ممالک میں لاگت کا احاطہ کرتی ہیں۔

برطانیہ نے نیشنل ہیلتھ سروس کے ذریعے ایس ایم اے ادویات دستیاب کرائی ہیں۔ آسٹریلیا مستحق مریضوں کو مہنگی زندگی بچانے والی ادویات تک سبسڈی پر رسائی فراہم کرتا ہے۔

بھارت میں اس نایاب بیماری میں مبتلا افراد علاج تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کراؤڈ فنڈنگ کا رخ کرتے ہیں.

لیکن جیسے جیسے نایاب جینیاتی بیماریوں پر توجہ بڑھ رہی ہے، مریض اور ان کے اہل خانہ مل کر وفاقی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ان ادویات کی قیمتوں کو کم کرے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں