نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیرکی حیثیت کے تعین کا کوئی حق نہیں۔ پاکستان بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے۔
نگراں وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے اسلام آباد میں نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیربین الاقوامی طور پرتسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، تنازع گزشتہ سات دہائیوں سے زیرالتوا ہے۔
پاکستان بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتا ہے، نگراں وزیر خارجہ#IndianSupremeCourt #Kashmir pic.twitter.com/P7Xf0dP5sH
— BOL Network (@BOLNETWORK) December 11, 2023
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے بین الاقومی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے، عالمی قانون5اگست2019کےبھارت کے یکطرفہ غیرقانونی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں؛ بھارتی عدالت نےمقبوضہ کشمیرکےمعاملے پرریاستی کرداراداکیاہے
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ جموں کشمیرایک بین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ تنازع ہے، مسئلہ کشمیر7دہائیوں سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں شخصی آزادی ہے نہ قانون کی عمل داری
پاکستان یہ معاملہ او آئی سی کے سامنے بھی اُٹھائے گا، نگراں وزیر خارجہ#IndianSupremeCourt #Kashmir pic.twitter.com/RGDUJiRN7K— BOL Network (@BOLNETWORK) December 11, 2023
واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیرسے متعلق سیاہ اقدام کو قانونی قراردے دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف درخواستوں پرمحفوظ فیصلہ سنایا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ مرکزی حکومت کو فیصلوں کے لیے ریاست سے منظوری لینا ضروری نہیں، جموں کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرنا مرکز کے اختیار میں نہیں ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے خبرپرکلک کریں۔
