بیروت میں ہونے والی طوفانی بارش میں رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پانی بھرنے میں صرف 20 منٹ لگے۔
عرب میڈیا کے مطابق بیروت کے رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے کے موسمیاتی اسٹیشن نے 20 منٹ میں 47 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی ، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ میں پانی داخل ہو گیا۔
بارش کے باعث آس پاس کی سڑکیں اور ہوائی اڈے کی پارکنگ جھیلوں میں تبدیل ہو گئی، بارش کا پانی اتنا اونچا ہو گیا کہ گاڑیوں کے ٹائر اور لوگوں کی ٹانگیں گھٹنوں تک ڈوب گئیں۔
مطار بيروت الدولي 🇱🇧🐠 pic.twitter.com/4tYkGe6ypf
— مصدر مسؤول (@fouadkhreiss) December 12, 2023
سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے ملک کے واحد ہوائی اڈے پر مسافروں کی ویڈیوز شیئر کیں جن میں وہ فرش کے درمیان چلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنے بیگ اپنے سر وں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔
ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر فادی الحسن نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے کام جاری ہے۔
ہوائی اڈے پر ایک باوثوق ذرائع نے عرب میڈیا کو بتایا کہ بارش کی مقدار نالوں کو سنبھالنے کے لئے بہت زیادہ تھی ، جس کے ساتھ ساتھ بحالی کے کام میں کمی اور فضلہ جمع ہوا ، جس کی وجہ سے یہ تباہی پیش آئی۔
ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ کے اندرونی صحن میں پانی بھر گیا اور کیفے اور ڈیوٹی فری دکانوں میں پانی داخل ہوگیا۔ قریبی بیرونی کار پارک بھی پانی میں ڈوب گیا تھا۔
الامطار الغزيرة تغرق مطار بيروت الدولي#lebanon24 pic.twitter.com/bgZXU22Irh
— Lebanon 24 (@Lebanon24) December 12, 2023
سرگرم کارکنوں نے صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ بیروت کی بندرگاہ ہے، اس کا ہوائی اڈہ نہیں۔
دریں اثنا، لبنانی عوام تعطیلات کے وقفے کے لئے ملک میں غیر ملکیوں اور سیاحوں کی آمد کے ساتھ تعطیلات کے موسم کی بحالی کے لئے پرامید ہیں۔
ٹورازم یونینز فیڈریشنز کے سیکریٹری جنرل جین بیروتی کو توقع ہے کہ لبنان آنے کے لیے پہلے سے بکنگ کروا چکے 4 ہزار افراد کا رخ اب ایئرپورٹ کی جانب ہے، جس کی وجہ سے بحالی کے کام میں تیزی لائی جائے گی۔




















