Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سوڈان میں 18 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں، عالمی ادارہ برائے خوراک

اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ برائے خوارک نے اپنی چشم کشا رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں 18 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر سوڈان میں غذائی امداد فراہم نہ کی گئی تو 18 ملین افراد کو بھوک کی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ برائے خوراک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال سوڈان کے کچھ حصوں میں اگلے سال کے کم موسم تک بھوک کی تباہ کن صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

WFP warns hunger catastrophe looms in conflict-hit Sudan without urgent food assistance | EXPRESSION AFRICA

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کا ادارہ دارالحکومت خرطوم سمیت تنازعات کے شکار علاقوں میں پھنسے لوگوں تک رسائی بڑھانے اور باقاعدگی سے خوراک پہنچانے میں ناکام رہا تو لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ نے سوڈان بھر میں 70 لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا ریکارڈ بنایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اچھی فصل کی کمی کے ساتھ ساتھ افریقی ملک کے بڑے حصے میں بھوک پھیل رہی ہے۔

War-ravaged Sudan faces catastrophic hunger crisis, says WFP - Sudan Tribune

مغرب میں دارفور کا وسیع علاقہ اور جنوب میں کوردوفان کے ساتھ ساتھ دارالحکومت خرطوم، جہاں سب سے پہلے تنازعہ شروع ہوا تھا غذا کی کمی کا شکار ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 9 ملین افراد کو بھوک کا سامنا تھا جو اس سال بڑی کر 18 ملین تک جا پہنچا ہے جو انتہائی غیر معمولی ہے۔

Thousands of exhausted South Sudanese head home, fleeing brutal conflict | Arab News PK

سوڈان میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ عالمی ادارہ، امداد کی ضرورت والے تقریبا ڈھائی کروڑ افراد میں سے صرف ایک حصے تک پہنچ سکا ہے۔

کلیمنٹائن نکیتا سلامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر فنڈز کی دائمی کمی جاری رہی تو ان 40 لاکھ افراد کی امداد بھی جلد ہی بند ہو سکتی ہے۔

یکم دسمبر کو سوڈانی حکام کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ملک میں عالمی ادارے کے سیاسی مشن کو ختم کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں