سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن نے ملک میں آئندہ عام انتخابات کا شیڈول جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں انتخابات 8 فروری 2024 کو منعقد ہوں گے۔
ملک بھر میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو ہوں گے۔۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔۔ 20 سے 22 دسمبر تک امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے۔۔ #BOLNews #Elections2024 pic.twitter.com/CG73kwiZhL
— BOL Network (@BOLNETWORK) December 15, 2023
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ملک بھر میں انتخابات 8 فروری 2024 کو منعقد ہوں گے اور ریٹرننگ آفیسر پبلک نوٹس 19 دسمبر کو جاری کریں گے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 20 سے 22 دسمبر تک امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے، امیدواروں کے ناموں کی ابتدائی فہرست 23 دسمبر کو جاری کی جائے گی جبکہ 24 دسمبر سے 30 دسمبر تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی۔
الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ 10جنوری 2024 کو اپیلوں پر اپیلٹ اتھارٹی کے فیصلوں کا آخری روز ہوگا جبکہ 11 جنوری 2024 کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ 12جنوری 2024 کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہوگی جبکہ 13جنوری 2024 کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہوں گے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے پولنگ 8 فروری 2024 بروز جمعرات کو ہوگی۔
الیکشن شیڈول سے متعلق الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ، عام انتخابات کے شیڈول کی منظوری
یاد رہے اس سے قبل الیکشن شیڈول سے متعلق الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے شیڈول کی منظوری دی۔
اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن اور چاروں ممبران شریک ہوئے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اجلاس کی صدارت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں الیکشن کمیشن نے آر اوز اور ڈی آر اوز کا نوٹیفکیشن بحال کردیا جبکہ اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن نے آر اوز ڈی آر اوز کی تربیتی پروگرام کی بھی منظوری دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آر اوز کی تربیت اتوار اور پیر کو ہوگی جبکہ ڈی آر اوز کی تربیت منگل کو ہوگی۔
سپریم کورٹ میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل، آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم
ریٹرننگ افسران سے متعلق سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا اور الیکشن کمیشن کو آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی اپیل پر براہ راست سماعت کے بعد چیف جسٹس نے حکم نامہ لکھوایا جبکہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو آر اوز، ڈی آر اوز سے متعلق درخواست پر کارروائی سے روک دیا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمے داریاں جاری رکھے اور الیکشن کمیشن آج ہی 3گھنٹے میں شیڈول جاری کرے۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/7HAlbpZJKI#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/X5GaGx5bkn— BOL Network (@BOLNETWORK) December 15, 2023
حکم نامے میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 13 دسمبر کے حکم کی خلاف اپیل دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کرنے والوں کو ہائی کورٹ میں فریق بنایا گیا، درخواست میں الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 غیرآئینی قرار دینے کی استدعا تھی جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق گزشتہ انتخابات سے آج تک کسی نے یہ شقیں چیلنج نہیں کیں، سجیل سواتی کے مطابق سپریم کورٹ نے تین نومبر کو آٹھ فروری کو انتخابات کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریک انصاف بھی سپریم کورٹ میں درخواست گزار تھی۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عدالتی ہدایات پر آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی، تمام فریقین آٹھ فروری کی تاریخ پر متفق تھے، وکیل الیکشن کمیشن کے مطابق عدالت نے پابند کیا تھا کوئی انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا، انتخابات کے انعقاد کیلئے تعینات ڈی آر اوز اور آر اوز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، جس سیاسی جماعت کی درخواست پر انتخابات کا حکم دیا گیا درخواست گزار اسی کا رکن ہے، سنگل جج لاہور ہائیکورٹ نے غیر معمولی عجلت میں فیصلہ دیا۔
حکم نامے کے مطابق عمیر نیازی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وضاحت دیں کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ ان کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ عمیر نیازی بیرسٹر ہیں اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے، الیکشن کمیشن کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، وکیل کے مطابق ہائیکورٹ حکم کی وجہ سے الیکشن شیڈول جاری کرنا ممکن نہیں، سجیل سواتی کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم میں تضاد پایا جاتا ہے، وکیل کے مطابق کیس لارجر بینچ کو بھیجتے ہوئے نوٹیفکیشن معطل کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے 1011 ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کو کام سے روکا، ہائیکورٹ نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ افسران نے ملک بھر میں خدمات انجام دینی ہیں، ہائیکورٹ نے اپنی حدود سے بڑھ کر حکم جاری کیا۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے درخواست گزار عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کسی ریٹرننگ افسر کے خلاف درخواست آئی تھی؟ الیکشن کمیشن نے بتایا کسی نے کوئی درخواست نہیں دی، عمیر نیازی اسی پارٹی سے ہیں جس نے انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، عمیر نیازی کہتے ہیں وہ بیرسٹر ہیں تو انہیں سپریم کورٹ احکامات کا علم ہونا چاہیے تھا، بظاہر عمیر نیازی نے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالی، عمیر نیازی جواب دیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے؟لاہور ہائیکورٹ اس درخواست پر مزید کوئی کارروائی نہ کرے ، عمومی طور پر سپریم کورٹ نوٹس جاری کیے بغیر حکم معطل نہیں کرتی، الیکشن کمیشن آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرے، الیکشن کمیشن نےانڈرٹیکنگ دی کہ آج شیڈول جاری کردیا جائے گا۔
ریٹرننگ افسران سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سر براہی میں تین رکنی بینچ الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی گئی تھی اور اپیل میں الیکشن کمیشن نے استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ 8 فروری کو انتخابات کروانے کے فیصلے پر عمل درآمد کروائے۔ سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،جسٹس سردار طارق مسعود،جسٹس منصورعلی شاہ شامل تھے۔
