Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وزیر صحت کا غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

اسرائیلی فورسز نے غزہ کے کمال ادوان اسپتال کے صحن میں بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کو کچلنے کا الزام عائد کیا ہے۔

کویتی میڈیا کے مطابق فلسطین کی وزیر صحت مائی الکیلا نے اسرائیلی فورسز پر شمالی غزہ کے کمال ادوان اسپتال کے صحن میں بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے زخمی مریضوں سمیت فلسطینیوں کو کچلنے کے الزامات کے بعد فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹروں اور دیگر عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے اسپتال کے قریب بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو مسمار کر دیا جو 7 اکتوبر کو اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد سے غزہ کے اندر کام کرنے والے 11 اسپتالوں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو زندہ دفن کیا گیا۔ کون ایسا کر سکتا ہے؟ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جایا جانا چاہئے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی متعدد ویڈیوز میں لوگوں کو کمال ادواں اسپتال کے سامنے ملبے تلے دبے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

قطری میڈیا کے ہانی محمود نے اتوار کی صبح جنوبی غزہ کے علاقے رفح سے رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ بلڈوزر نے اسپتال کی بہت سی سہولیات کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بلڈوزر نے صحن میں لوگوں اور ان کے خیموں کو کچل دیا اور تقریبا 20 افراد ملبے تلے دب گئے۔

فلسطین کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک پریس بیان میں وزیر صحت الکائلہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسپتال میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کرے اور غزہ میں ہونے والے ‘جنگی جرائم’ کو نظر انداز نہ کرے۔

وزیر صحت الکائلہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اسرائیلی فوج نے اسپتال کے جنوبی حصے کو تباہ کر دیا ہے ، اور کہا کہ 12 نوزائیدہ بچے اسپتال میں انکیوبیٹرز کے اندر پانی یا کھانے کے بغیر رہ گئے ہیں۔

اسرائیلی فورسز نے کئی روز تک ہسپتال کا محاصرہ کرنے اور گولہ باری کرنے کے بعد منگل کے روز اس پر چھاپہ مارا۔

متعلقہ خبریں