مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ میں کیتھولک چرچ کی دو خواتین کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق پوپ فرانسس نے غزہ کے ایک کیتھولک چرچ میں دو خواتین کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوچ نے بے سہارا شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پوپ فرانسس نے زور دے کر کہا کہ ‘یہ مقدس خاندان کے اندر بھی ہوا جہاں کوئی دہشت گرد نہیں ہے، بلکہ خاندان، بچے، بیمار یا معذور افراد ہیں’۔
انجیلس کی دعا کے اختتام پر پوپ فرانسس نے کہا کہ مجھے غزہ سے بہت سنجیدہ اور تکلیف دہ خبریں مل رہی ہیں، ایک ماں اور اس کی بیٹی کو اسرائیل کے اسنائپر نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔؎
یروشلم کی لاطینی پیٹریاکریٹ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے واحد کیتھولک چرچ کے احاطے میں ایک اسرائیلی فوجی نے ایک مسیحی ماں اور بیٹی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
چرچ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ایک اسنائپر نے غزہ میں چرچ کے اندر دو مسیحی خواتین کو قتل کر دیا، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مسیحی خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ سے مزید سات افراد زخمی ہوئے جب وہ دوسروں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں تقریبا 1140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔
جبکہ حماس کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی جوابی کارروائی میں 18 ہزار 800 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
