Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز میڈیا ٹائیکون کے خلاف مقدمے کی سماعت آج شروع کر دی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز میڈیا ٹائیکون جمی لائی پر قومی سلامتی کی خلاف ورزی اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ساز باز کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

76 سالہ جمی لائی نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے، وہ دسمبر 2020 سے جیل میں قید ہیں، اگر وہ قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خود ساختہ کروڑ پتی کو ایک سکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جسے چین پر اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے۔

میڈیا ٹائیکون کے کیس نے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر ہانگ کانگ کی عدالتی آزادی کے امتحان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

عدالت کےاحاطے میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

میڈیا ٹائیکون جمی لائی جو گزشتہ تین سالوں سے قید تنہائی میں قید ہیں، اس سے پہلے کی سماعتوں کے مقابلے میں پتلے دکھائی دے رہے تھے جب وہ جیل کے محافظوں کے ہمراہ تین ججوں کے سامنے عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

جمی لائی عدالت پہنچے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف  دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔ وہ ان 250 سے زائد کارکنوں، قانون سازوں اور مظاہرین میں سے ایک ہیں جنہیں قومی سلامتی قانون (این ایس ایل) اور غداری کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

ایک سال سے تاخیر کا شکار اس تاریخی مقدمے کی سماعت تقریبا 80 دنوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

بیجنگ، جس نے 2020 میں بڑے پیمانے پر جمہوریت نواز مظاہروں کے جواب میں این ایس ایل متعارف کرایا تھا، کا اصرار ہے کہ بدامنی کو روکنے کے لئے یہ قانون ضروری ہے۔

چین میڈیا ٹائیکون جمی لائی کو غدار سمجھتا ہے جس نے چین کی سلامتی کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مسٹر لائی کا معاملہ سابق برطانوی علاقے پر بیجنگ کی مضبوط گرفت کی ایک اور مثال ہے۔

میڈیا ٹائیکون جمی لائی کی اہلیہ ٹریسا اپنے اہل خانہ اور 92 سالہ کارڈینل جوزف زین کے ساتھ عدالت میں موجود تھیں جنہیں این ایس ایل کے تحت بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن اب وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

متعلقہ خبریں