Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جاپان نے دفاعی بجٹ میں 56 ارب ڈالر کا اضافہ کر دیا

جاپان نے ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اپنے دفاعی بجٹ کو 56 ارب ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔

قطری خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق جاپان نے ہتھیاروں کی برآمد پر عائد پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے اسے مقامی سطح پر تیار کردہ میزائل اور توپ خانے امریکہ سمیت دیگر ممالک کو بھیجنے کی اجازت دے دی ہے.

خبر کے مطابق جاپانی کابینہ نے بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر اگلے سال کے لیے دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

ایک دہائی میں امن پسند ملک کی جانب سے ہتھیاروں پر پابندیوں میں بڑی تبدیلی انڈو پیسیفک میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

تقریبا ایک دہائی میں سب سے اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان جمعے آج کیا گیا ہے اور اس سے جاپان کو امریکہ کو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل بھیجنے کا موقع ملے گا۔

نئے اقدامات اب بھی جاپان کو ان ممالک کو ہتھیار بھیجنے سے روکتے ہیں جو جنگ میں ہیں ، لیکن اس اقدام سے امریکہ کو روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو اضافی فوجی امداد فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

چیف کیبنٹ سیکرٹری یوشیماسا ہیاشی نے کہا کہ اس سے نہ صرف جاپان کی سلامتی میں مدد ملے گی بلکہ وسیع تر بحرہند و بحرالکاہل کے خطے میں امن و استحکام میں بھی مدد ملے گی۔

آج جاپانی کابینہ نے 2024 میں دفاعی اخراجات میں 16 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کی بھی منظوری دی جس سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کی تعیناتی میں تیزی آئے گی جو چین اور شمالی کوریا میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

مارچ سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے 7.95 ٹریلین ین (56 ارب ڈالر) کا بجٹ وزیر اعظم فومیو کیشیدا کے دفاعی اخراجات کو 2027 تک نیٹو کے معیار کے مطابق دوگنا کرنے کے ہدف کے عین مطابق ہے۔

یہ دفاعی بجٹ ایک سال قبل حکومت کی جانب سے اپنائی گئی نئی سکیورٹی حکمت عملی کے تحت آتا ہے کیونکہ جاپان اپنی دفاعی صلاحیت کو ڈرامائی طور پر بڑھانا چاہتا ہے کیونکہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے فوجی عزائم سے پریشان ہے۔

جبکہ یوکرین پر روس کا حملہ بھی ہوا ہے جس نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ چین تائیوان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور مستقبل میں جوہری تجربات کے امکانات نے بھی ٹوکیو کو اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version