غزہ کے شہری دفاع کے محکمے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
خلیجی میڈیا کے ماطبق غزہ میں امدادی حکام نے آج کہا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید ہو گئے ہیں، مرنے والوں میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تجربہ کار ملازم عصام المغربی، ان کی اہلیہ اور ان کے پانچ بچے شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں کوئی بھی کہیں بھی محفوظ نہیں ہے اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت انسانی امداد کی تقسیم میں ‘بڑے پیمانے پر رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
غزہ کے شہری دفاع کے محکمے کے ترجمان محمود باسل نے کہا ہے کہ جمعے کے روز غزہ شہر میں ایک عمارت پر ہونے والا حملہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کا سب سے مہلک ترین حملہ تھا۔
محمود باسل نے ہلاک ہونے والوں کے ناموں کی جزوی فہرست فراہم کی جن میں المغربی خاندان سے تعلق رکھنے والے 16 گھرانوں کے سربراہان شامل ہیں اور کہا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ترجمان محمود باسل کا کہنا تھا کہ عصام اور ان کی فیملی کی موت نے ہم سب کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے سرحد پار حملے کے بعد جنگ کا اعلان کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک اور 240 یرغمال بنائے گئے تھے۔
اسرائیل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غزہ میں حماس کو تباہ کرنے اور اقتدار سے بے دخل کرنے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی تک لڑائی جاری رہے گی۔
غزہ میں صحت کے حکام کے مطابق حماس کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کی جنگ میں اب تک 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 53 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
