اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا ہے کہ یمن میں متحارب فریقین نئی جنگ بندی کے لیے رضا مند ہو ئے ہیں۔
خلیجی میڈیا کے مطابق یمن کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب نے کہا ہے کہ یمن کے متحارب فریقین نے نئی جنگ بندی کا عہد کیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں امن عمل میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
سعودی عرب اور عمان میں متعدد ملاقاتوں کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک بھر میں جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے اقدامات پر فریقین کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اور ایک جامع سیاسی عمل کی بحالی کی تیاریاں شروع کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سفیر اب اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک روڈ میپ قائم کرنے کے لئے فریقین کے ساتھ بات چیت کریں گے جس میں ان وعدوں کو شامل کیا گیا ہے اور ان پر عمل درآمد کی حمایت کی جائے گی۔
یاد رہے کہ یمن 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کے بعد سے تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔
اقوام متحدہ کی ثالثی میں اپریل 2022 میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کی وجہ سے دشمنی میں کمی واقع ہوئی تھی، تاہم یہ جنگ بندی گزشتہ سال اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی اور لڑائی ابھی تک جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق لڑائی کے خاتمے کے روڈ میپ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، باغیوں کے زیر قبضہ شہر تعز اور یمن کے دیگر حصوں میں داخلے کے راستے کھولنے اور تیل کی برآمدات بحال کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
