اسرائیلی فوج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری کے ردعمل میں حماس کا بھی ترکی بہ ترکی جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے جواب میں حماس کے جانباز صیہونی افواج کو کرارا جواب دے رہے ہیں اور اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے آج مزید دو صیہونی میجر کو جہنم واصل کر دیا ہے، حماس کے حملوں میں اب تک 156 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز ایک درجن سے زائد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد میڈیا کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہیں اس جنگ میں بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
آج کرسمس کے روز بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور غزہ پر موت کے گولے برسائے جا رہے ہیں۔
پوپ فرانسس نے بھی غزہ میں معصوم شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے عیسائی برادری کو کرسمس کا دن سادگی سے منانے کی اپیل بھی کی ہے۔
حماس کے سینئر رکن اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ اسرائیل شکست کھا چکا ہے اور اب ہم جنگ روکنے تک قیدیوں کی رہائی پر بات نہیں کریں گے۔
اسامہ حمدان نے بیروت میں پریس کانفرنس میں کہا کہ صیہونی دہشتگردی ہمارے عزم کو نہیں توڑ سکی۔
رپورٹس کے مطابق جرمنی کو بھی کہنا پڑا کہ فلسطین میں امن تک اسرائیل میں امن نہیں آ سکتا، جرمن وزیر خارجہ انالینا باربک نے کہا اسرائیل انسانی امداد کو غزہ میں داخلہ دے۔
دوسری جانب آج کرسمس پر بھی اسرائیل نے مغربی کنارے پر روشنی کے بم برسا دیئے ہیں، اور کرسمس کی شام کو بھی خون کی بڑی ہولی کھیلی، صیہونی افواج نے المغازی پناہ گزین کیمپ میں بمباری کر کے 70 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے علاقے خان یونس کے ناصر اسپتال کے قریب بھی بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
