Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

روس سے بڑھتے تعلقات پرمغربی ممالک میں بھارت کے خلاف شدید تشویش

روس سے بڑھتے تعلقات پرمغربی ممالک میں بھارت کے خلاف شدید تشویش پربرطانوی اخبارنے دعوٰی کیا ہے کہ بھارت روس کے عزائم کی توثیق کررہا ہے۔

مغربی ممالک بشمول برطانیہ میں روس اور بھارت کے بڑھتے مراسم پر شدید تحفظات پائے جارہے ہیں، برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق کرسمس پر میٹنگ میں بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ میں غیر معمولی ڈیل ہوئی۔

برطانوی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ اس ملاقات میں ایک نئے عالمی نظام کے قیام پر بھارت اور روس نے اتفاق کیا، بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ نے میٹنگ کے بعد ایک قریبی اور خصوصی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا، بھارتی وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور ساتھ صدر پیوٹن کے عالمی ڈیزائن کی توثیق بھی کردی۔

برطانوی اخبارکے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ کی جانب سے مغرب کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے پر ساتھ کھڑے بھارتی وزیر خارجہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی، دونوں ممالک نے نئے ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

برطانوی اخبارکا کہنا ہے کہ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ اعلان یوکرین کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی ہے اور روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں نیا حامی مل چکا ہے، بھارتی اور روسی وزرائے خارجہ نے عندیہ دیا کہ روس کے یوکرین پر غیر قانونی حملے سے بھارت اور روس کے مثبت تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

برطانوی اخبارنے کہا کہ بھارت یوکرین کے معاملے پر روس کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے جو کہ کسی صورت بھی نیوٹرل پوزیشن نہیں،  برطانوی خبر رساں ادارے نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم بھارت کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل کر رہے ہیں تو دوسری جانب بھارت روس کے عزائم کی حمایت کررہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم جہاں بھارت میں مودی سرکار کے ہاتھوں قتل عام اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر چپ سادھے ہوئے ہے وہاں بھارت کا روس کی جانب جھکاو بڑھتا جارہا ہے، مودی سرکار پارلیمنٹ کو استعمال کرکے بھارتی قوانین میں بڑی تبدیلیاں لارہا ہے جسے مسلمانوں اور اقلیتوں پر مظالم کی بدترین لہر آنے کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے۔

برطانوی اخبارکا یہ بھی کہنا ہے کہ حال ہی میں ایکانومسٹ میگزین نے ڈیموکریسی انڈیکس میں بھارت کو ایک ناقص جمہوریت قرار دیا تھا، کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور نے مودی حکومت کے اقدامات کو بھارتی پارلیمانی جمہوریت کا جنازہ قرار دیا تھا، بھارت اور روس اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے لیے مذاکرات کا آغاز کرچکے ہیں جو کہ یوکرین کے معاملے پر مغرب کے بیانیے کی نفی ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version