Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان سےلائےجانےوالےغیرملکی اسلحے کےاستعمال کےثبوت پھرمنظرِعام پر

پاکستان کی سر زمین پرافغانستان سے لائے جانے والے غیر ملکی اسلحے کے استعمال کے ثبوت پھر منظرِعام پرآگئے۔ افواج پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے ٹی ٹی پی کے خلاف دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے۔

ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو افغانستان میں امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ دستیاب ہے، ٹی ٹی پی کو ہتھیاروں کی فراہمی نے خطے کی سلامتی کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے، بالخصوص پاکستان میں دہشتگردی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

31 دسمبرکو بھی خیبر پختونخوا ضلع باجوڑ میں پاک افغان سرحد پارکرنے والے 3 دہشتگردوں کو سیکیورٹی فورسز نے جہنم واصل کیا۔ اِن دہشتگردوں سے بھی M4 Carbine (امریکی ساخت) اور دیگر اسلحہ بر آمد ہوا۔ اِس سے پہلے 29 دسمبر کو بھی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں دہشتگردوں سے M-4 Carbine، AK-47 اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔

میرعلی آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد کمانڈر راہزیب کھورے سمیت پانچ دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار پاکستان میں دہشتگردی کے حملوں میں غیر ملکی ہتھیار استعمال کیے گئے۔ بلوچ لبریشن آرمی نے بھی انہی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فروری 2022 میں نوشکی اور پنجگور اضلاع میں ایف سی کیمپوں پر حملے کیے۔

12 جولائی 2023 کو بھی ژوب گیریژن پر ہونے والے حملے میں بھی ٹی ٹی پی کی جانب سے امریکی اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ 6 ستمبر2023 کو جدید ترین امریکی ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے چترال میں دو فوجی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔  4 نومبرکو میانوالی ائیر بیس حملے میں دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ غیر ملکی ساخت کا تھا جس میں RPG-7، AK-74، M-4 اور M-16/A4 بھی شامل ہیں۔

12 دسمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں ہونے والےدہشتگردی کے حملے میں بھی دہشتگردوں کی جانب سے نائٹ ویژن گوگلزاورامریکی رائفلز کا استعمال کیا گیا۔ 15 دسمبر کو ٹانک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ میں دہشتگروں کے پاس جدید امریکی اسلحہ پایا گیا۔ حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 5 دہشتگرد جہنم رسید ہوئے، دہشتگردوں نے M16/A2, HE Grenades, AK-47 استعمال کیے۔

13 دسمبر کو کسٹمزاورسیکیورٹی فورسزنے افغانستان سے پاکستان آنیوالی گاڑی سے پیاز کی بوریوں سے بھی جدید امریکی ہتھیار برآمد کیے، اسلحے میں جدید امریکی ساختہ ایم فور، امریکی رائفل، گرنیڈ شامل تھے۔ افغانستان سے جدید امریکی اسلحہ کی پاکستان اسمگلنگ اور ٹی ٹی پی کا سیکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف امریکی اسلحہ کا استعمال افغان عبوری حکومت کا اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یورو ایشین ٹائمزکے مطابق پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی کارروائیوں میں امریکی ساخت کے اسلحے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا نے افغان فوج کو کل 427,300 جنگی ہتھیار فراہم کیے، جس میں 300,000 انخلا کے وقت باقی رہ گئے۔

اس بنا پرخطے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گردی میں وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا۔

پینٹاگون کے مطابق امریکا نے 2005 سے اگست 2021 کے درمیان افغان قومی دفاعی اورسیکیورٹی فورسز کو 18.6 ارب ڈالر کا سامان فراہم کیا۔

امریکی انخلا کے بعد ان ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کو سرحد پار دہشت گرد حملوں میں مدد دی۔ یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان ریجیم نہ صرف ٹی ٹی پی کو مسلح کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ راستہ بھی فراہم کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version