Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران، جنرل قاسم سلیمانی کے مزار پر دھماکہ، 103 افراد ہلاک متعدد زخمی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق جنرل قاسم سلیمانی کے مزار کے قریب ہونے والے دو بم دھماکوں میں 103 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ایران کے شہر کرمان میں پاسداران انقلاب کے سابق جنرل قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی کے موقع پر ان کے قبرستان کے قریب ہونے والے دھماکوں میں 103 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے سلیمانی کے مزار کے قریب بدھ کی سہ پہر دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حکام نے اس حملے کا الزام دہشت گرد انہ حملے پر عائد کیا ہے۔

ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر پہنچ رہی ہیں اور زخمی افراد کو اسٹریچر پر لے جایا جا رہا ہے۔ کرمان دارالحکومت تہران سے تقریبا 820 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 103 افراد ہلاک اور 170 زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان بابک یکتاپرست کے حوالے سے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

“کرمان صوبے کے ریڈ کریسنٹ کے سربراہ رضا فلاح نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ہجوم کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں خلل پڑ رہا ہے لیکن ہماری ریپڈ رسپانس ٹیمیں زخمیوں کو نکال رہی ہیں۔

دھماکوں کی وجوہات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی تھی۔

یاد رہے کہ آئی آر جی سی کی قدس فورس کے کمانڈر اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے اہم معمار قاسم سلیمانی کو 3 جنوری 2020 کو بغداد میں اترنے کے فورا بعد ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری امریکہ نے قبول کی تھی۔

اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عراقی دارالحکومت میں امریکی فوجی اہلکاروں پر فوری حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یہ واقعہ حماس کے نائب رہنما صالح العروری کی بیروت میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جسے لبنانی حکام نے اسرائیل سے منسوب کیا تھا۔

ایران نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مزاحمت کی رگوں میں ایک اور اضافہ ہو سکتا ہے اور صیہونی قابضین کے خلاف لڑنے کا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version