سعودی عرب نے اسرائیلی وزراء کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ میں یہودی آباد کاری کے بیان کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور دوبارہ سے یہودی آبادکاری یا اس طرح کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا لہذا سعودی عرب اسرائیلی وزراء کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو مسترد کردی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ جس اسرائیلی وزیر کا یہ بیان قابل مذمت ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرکے یہودی بستیاں بنائے گا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کے ہر فلسطینی کو قتل کردو، اسرائیلی رکن پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی
سعودی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو اس کی مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قوانین کے تحت کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے لہذا عالمی برادری کو اس حوالے سے ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے ممبر موشے سعدا نے ایک چینل پر انٹریو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیلیوں کی اکثریت غزہ کے لوگوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ غزہ میں موجود ہر ایک فلسطینی کو قتل کردیا جائے۔
انٹریو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پارٹی کے اہم رکن موشے سعدا نے عرب دشمنی میں غزہ میں موجود تمام انسانوں کو ہلاک کرنے کا مطالبہ کیا اور ہرزہ سرائی کی کہ آج سب پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کا حق ایماندارنہ اور درست تھا۔
دوسری جانب دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے بھی اسی طرح کا بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر غزہ میں یہودی آباد کیے جائیں گے ( مغربی کنارے کی طرح ) تو یہ غزہ کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے مفید ہو گا، اس لیے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کی غزہ چھوڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔
سموٹریچ نے مزید کہا کہ اگر ہم نے ‘سٹریٹیجیکلی’ درست اقدامات کیے تو دو ملینز کی تعداد میں موجود فلسطینی صرف ایک دو لاکھ غزہ میں رہ سکیں گے۔
واضح رہے کہ عرب ممالک کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھی ان بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔




















