جاپان کی ایک کیڑے مارادویات بنانے والی کمپنی نے مرنے والے حشرات کی یاد میں ایک الوداعی تقریب منعقد کی جس میں تحقیق کے دوران مرنے والے کیڑے مکوڑوں کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا واضھ رہے کہ تقریب ہر سال منقعد کی جاتی ہے۔
جاپان میں کیڑے مکوڑے ماردوا بنانے والی ایک کمپنی ارتھ کارپوریشن نے ہمیشہ کی طرح اس سال بھی ان حشرات کی یاد میں ایک یادگارتقریب منعقد کی جو ریسرچ اور تحقیق کے دوران ان کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی یہ تقریب باقاعدہ ایک مندر میں منعقد کی گئی تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاپان کی کمپنی ارتھ کارپوریشن گھریلو کیڑے مار ادویات کی فہرست میں نمبر ون مانی جاتی ہے، اور یہ ہر طرح کے کیڑے مکوڑے مارنے کے لیے دوائیں بناتی ہیں لیکن کمپنی کے مطابق اس کے پیچھے ایک طویل تحقیق ہے۔

کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی برسوں کی محنت سے مختلف حشرات کے اوپر اپنی مختلف کیمیکلز آزمائیں ہیں تاکہ ان ادویات کو حشرات مارنے کے لیے مؤثر ترین بنایا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تجربے کے دوران بہت سارے کیڑے مکوڑے کو تجربہ گاہوں میں لایا جاتا ہے اور ان پر ادویات کا اثر دیکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کو تلف کیا جاتا ہے۔
اس طرح یہ حشرات اپنی جانیں دے کر لوگوں کو کیڑے، مکوڑوں اور دیگرحشرات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تجربہ گاہی اہمیت سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اسی تناظر میں ان جانداروں کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے جاپانی شہر ایکو میں ہر سال ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے اور ان میں یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ حشرات نے قربانی دے کر انسانی فلاح وبہبود اور انسانی سکون کے لیے راہیں ہموار کی ہیں۔
گزشتہ ماہ ارتھ کارپوریشن کے ساٹھ سے زائد ملازمین ایک مقام پر جمع ہوئے اور ان کے سامنے بہت سارے ایسے کیڑے مکوڑوں کی تصاویر موجود تھی جنہں تجربات کے لیے استعمال کیا گیا، ان حشرات میں جوئیں، مچھر، لال بیگ اور دیگر کیڑے مکوڑے شامل تھے۔ اس موقع پر کمپنی کے مالک کہا کہ آپ سب ہی جانے انجانے میں کتنے کیڑے مکوڑوں کو اس دنیا سے مٹا دیتے ہیں لیکن ان کی اپنی اہمیت ہے اور کمپنی ان کی تحقیقی اہمیت کا اعتراف کرتی ہے۔