ایران میں ایک خاتون کو حجاب کی خلاف ورزی اور نامناسب لباس پہننے پر بطور سزا 74 کوڑے مارے گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رویا ہیشمتی نامی خاتون کو 74 کوڑے مارنے کی سزا ایران کی ایک عدالت کی جانب سے سنائی گئی تھی کیوں کہ انہوں 33 سالہ خاتون نے سرعام نامناسب لباس پہنا تھا اور اس کے علاوہ حجاب بھی درست طریقے سے نہیں پہنا تھا۔
عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا کہ رویا ہیشمتی نے عوامی مقامات پر لباس کوڈ کا خیال نہیں رکھا جس کا شریعت اور ایرانی تہذیب تقاضا کرتی ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں عوامی مقام پر حجاب درست طریقے سے نہ پہننا اور نامناسب لباس پہن کر گھومنا قانوناً جرم ہے۔
🔺 انتشار اسناد و جزئیات ماموریت هتک حرمت و اباحهگری سازمان یافته #رویا_حشمتی از خارج از کشور در ازای دریافت اضافهکارhttps://t.co/mZoI7YNsEk pic.twitter.com/heNVh7kfRB
— خبرگزاری میزان (@MizanNewsAgency) January 7, 2024
ایران انٹرنیشنل نیوز کے مطابق رویا ہشمتی کو اپریل میں سر عام سرخ لباس میں بغیر اسکارف پہننے عوامی مقام پر گھومنے پر حراست میں لیا گیا تھا اور اب انہیں عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی ہے جس میں 13 سال کی قید بھی شامل ہے تاہم بعد میں ان کی سزا کو ایک اور عدالت کی جانب سے معطل کردیا گیا تھا۔
ناروے کی انسانی حقوق کی تنظیم نے رویا ہشمتی کو دی جانے والی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رویا ہیمشتی ایک ایکٹویسٹ ہیں اور انہیں سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنی اسکارف کے بغیر تصاویر شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔
اس کے علاوہ ایرانی عدالت نے رویا ہیمشتی کو ایک سال قید کی سزا بھی سنائی تھی تاہم اس سزا کو معطل کردیا گیا تھا جب کہ ان پر 3 سال تک ایران چھوڑنے پر بھی پابندی ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں خمینی انقلاب کے بعد 1979 کے بعد سے تمام خواتین کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی گردن اور سر کو ڈھانپ کر اسکارف سے ڈھانپ کر گھر سے باہر نکلیں۔
اس سے قبل 2022 میں مھسا امینی نامی کرد لڑکی کو حجاب درست طریقے سے نہ پہننے پر ایرانی پولیس نے گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں ان کی حراست کے دوران ہی ہلاکت ہوگئی تھی جس پر ایران میں آج تک مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
مھسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جو تقریباً سال بھر پوری شدت سے جاری رہے اور اس دوران 5 ہزار سے زائد شہری بھی مارے گئے تھے۔
ان مظاہروں میں خواتین نے احتجاجاً اپنے بال کاٹے اور حجاب کی پابندی کی کھل کر خلاف ورزی کی تھی جس پر پولیس نے سیکڑوں افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔
