امریکا نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کے انتخابات نہ تو شفاف تھے اور نہ ہی غیرجانبدارانہ تھے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اپوزیشن پارٹی کے ہرازروں کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری ہوئی، اس کے علاوہ ووٹنگ کے عمل میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضا بطگیاں رپورٹ ہوئیں جس پر تشویش ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش میں عام انتخابات کے دوران پرتشدد واقعات اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جب کہ امریکا بنگلا دیش کے عوام کے ساتھ ہیں۔
امریکا نے بنگلا دیش کی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ تشدد کے واقعات کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کو سزا دے۔
دوسری جانب برطانیہ کی جانب سے بھی بنگلادیش میں ہونے والے عام انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بنگلادیش میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا جمہوری عمل نہیں تھا۔
خیال رہے کہ بنگلا دیش میں ہونے والے عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد پانچویں بار وزیراعظم بن گئیں، حکمراں جماعت عوامی لیگ نے 298 نشستوں کے ایوان میں 223 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تھا۔
شیخ حسینہ واجد نے نتائج کے اعلان کے بعد حامیوں کے جشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے اپنے اوپر ہونے والی تمام تنقید کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن آزادانہ اور منصفانہ تھے۔ جسے تنقید کرنا ہے وہ کرتا رہے۔ کسی پارٹی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں ہے۔




















