چین نے 2021 کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنے پہلے فوجی مذاکرات میں کہا ہے کہ وہ تائیوان کے معاملے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق چین نے بیان میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تائیوان کو مسلح کرنا بند کرے اور اس کے خدشات کو سنجیدگی سے لے۔
یہ تائیوان میں اہم انتخابات سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جو جزیرے کو بیجنگ کی طرف یا دور دھکیل سکتے ہیں۔
چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے لیکن یہ جزیرہ خود کو چینی سرزمین سے الگ سمجھتا ہے۔
چین کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین نے برابری اور احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ صحت مند اور مستحکم فوجی تعلقات استوار کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو چین کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، بیجنگ تائیوان کے سوال پر کوئی رعایت یا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
چین کا کہنا ہے کہ امریکا ایک چین کے اصول، متعلقہ وعدوں کا احترام کرے، تائیوان کو مسلح کرنا بند کرے اور تائیوان کی آزادی کی حمایت نہ کرے۔
ایشیا میں بالادستی کے لئے چین اور امریکہ کے درمیان کشمکش میں تائیوان ایک اہم فلیش پوائنٹ ہے۔ اگست 2022 میں اس وقت کی امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان کے دورے کے بعد چین نے احتجاج کے طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس ہفتے کے اوائل میں چینی صدر شی جن پنگ اور ان کے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے درمیان نومبر میں ایک ملاقات کے دوران طے پانے والے معاہدے کے بعد ان معاہدوں کی بحالی ہوئی تھی۔ یہ دو روزہ مذاکرات منگل کو واشنگٹن میں اختتام پذیر ہوئے۔




















