پشاور کی فارماسیوٹیکل کمپنی کے کھانسی کے شربت میں زہریلے اجزاء کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق مضر صحت ہونے کی وجہ تھائی لینڈ سےدرآمدشدہ خام مال ہی قرار دیا جارہا ہے، تھائی لینڈ سے درآمد خام مال پر بھی پابندی لگادی گئی۔
ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ کھانسی کے شربت میں تھائی لینڈ سے درآمد شدہ پروپلین گلائیکول نامی خام مال استعمال ہوا ہے، تھائی لینڈ سے درآمد شدہ پروپلین گلائیکول میں زہریلی کثافتوں کی مقدار 25 فیصد پائی گئی اور یہ خام مال پورے ملک میں سپلائی ہوا۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے ملک سے تھائی لینڈ درآمد شدہ خام مال واپس منگوا رہے ہیں، بدنیتی ثابت ہوئی تو ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ زہریلے اجزا والے کھانسی کے شربت بنانے والی لاہور کی کمپنی کے خلاف بھی کریمنل کیس کریں گے۔
ڈریپ حکام کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی دوائی کے خلاف اس وقت تک آگاہی مہم شروع نہیں کی جاسکتی جب تک اس کے خلاف کارروائی کے ٹھوس ثبوت نہ مل جائیں تاہم وزارت صحت تھائی لینڈ اور پشاور کی کمپنی کے سیرپ نہ خریدے جانے کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کرے گی۔
پاکستانی کھانسی کے شربت سے متعلق ایک اور الرٹ جاری
عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی کھانسی کے شربت سے متعلق ایک اور الرٹ جاری کردیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ لاہور کی فارماسیوٹیکل کمپنی کے بنائے ہوئے کھانسی کے شربت میں زہریلی کثافتیں پائی گئیں، غیر معیاری سیرپ مالدیپ، نجی سمیت کئی ممالک میں پایا گیا۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ متعلقہ فارماسیوٹیکل کمپنی کا سیرپ سیکشن پچھلے ماہ بند کر چکے ہیں۔
دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے سیرپ بنانے والی تمام فارماسوٹیکل کمپنیوں کو گلیسرین ٹیسٹ کرنے کی ہدایت کردی۔
ڈریپ نے تمام ادویہ سازوں کو گلیسرین اور سوربیٹول ٹیسٹ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ترجمان ڈریپ کا کہنا ہے کہ گلیسرین اور سوربیٹول کھانسی اور الرجی کا شربت بنانے میں استعمال کی جاتی ہے، سیرپ بنانے والی تمام فارماسوٹیکل کمپنیاں گلیسرین ٹیسٹ کرکے استعمال کریں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ جعلی اور ان رجسٹرڈ ادویات بیچنے والوں کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
