Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مودی سرکار کی مسلم دشمنی عروج پر، مسلمان اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں

مودی سرکار نے بھارتی ریاست اترپردیش میں مسلمان اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں برسر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک اور مسلم مخالف اقدام سامنے آیا ہ۔

آبادی کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے جہاں ریاستی حکومت نے مختلف مدارس اور مذہبی اسکولوں میں ریاضی اور سائنس سمیت دیگر مضامین پڑھانے والے مسلمان اساتذہ کی تنخواہیں روک دیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں اگلے انتخابات کی تیاریاں ہورہی ہیں اور مودی سرکار تیسری بار وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

ریاست اترپردیش کے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیف افتخار احمد جاوید کا کہنا تھا کہ بی جے پی سرکار کے اس فیصلے کی وجہ سے 21 ہزار سے زائد اساتذہ متاثر ہوں گے اور مسلمان طلبہ اور ٹیچر 30 سال پیچھے چلے جائیں گے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق بھارتی حکومت نے مارچ 2022 میں اسکیم کے تحت ہونے والی فنڈنگ ختم کردی تھی اور پروگرام کی منظوری  4 برس قبل ہی روک دی گئی تھی ، تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بھارتی حکومت نے فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

خیال رہے کہ نریندرمودی کی حکومت نے مذکورہ پروگرام کے لیے 2016 میں ختم ہونے والے مالی سال میں ریکارڈ 3 ارب بھارتی روپے کا اضافہ کردیا تھا لیکن اس کے بعد فنڈنگ روک دی گئی ہے۔

اترپردیش میں 21 ہزار 200 سے زائد مدرسوں میں سائنس، ریاضی، سماجیات، ہندی اور انگریزی پڑھانے والے اساتذہ کو ماہانہ بنیاد پر ریاستی حکومت 3 ہزار روپے اور وفاقی حکومت 12 ہزار روپے فراہم کرتی تھی۔

مدرسہ بورڈ کے سربراہ افتخار احمد جاوید جو بی جے پی کی اقلیتی تنظیم کے قومی سطح پر سیکریٹری ہیں، کا کہنا تھا کہ اترپردیش میں اساتذہ کو وفاقی حکومت کی جانب سے اسکیم کے تحت رواں ہفتے تاحال کوئی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے اسکیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس امید کے ساتھ کام کو معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version