پاکستان کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فتح ٹو ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے کی گرد ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ پاک فوج کی جانب سے ہائی ٹو میڈیم ائیر ڈیفنس ویپن سسٹم کا پہلا فائر دشمن پر بجلی بن کر گرا۔
پاکستان کی جانب سے ہائی ٹو میڈیم ائیر ڈیفنس ویپن یا حماد ویپن سسٹم کا پہلا فائر یقینا ملکی فضائی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی جانب ایسا ٹھوس قدم ہےجس کے نتائج نہ صرف تذویراتی بلکہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔

سونمیانی فائرنگ رینج میں پاک فوج کی ائیر ڈیفنس کور کی جانب سے نہ صرف ہائی ٹو میڈیم ایئر ڈیفنس ویپن کا پہلا فائر کیا گیا بلکہ بیک وقت کئی دیگر ہتھیاروں کا تجربہ بھی کیا گیا۔
چند دنوں کے اندر پاکستان میں دفاع کے میدان بڑی اہم اور اسٹریٹیجک نوعیت کی پیشرفت سامنے آئی ہے،ایک طرف تو پاکستان فضائیہ عزم عالی شان لئے چین کے جے تھرٹی ون کے حصول کے اعلان کے ساتھ ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی جانب بڑھتی دکھائی دی تو دوسری جانب پاک فوج کی جانب سے فتح ٹو اور ہائی میڈ ویپن سسٹم کے ٹیسٹ فائر سامنے آئے۔
آرمی ائیر ڈیفنس کی مشقوں کے دوران ہائی میڈ ویپن سسٹم کا پہلا فائر کیا گیا۔ ہائی میڈ سسٹم نے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا کر ملک کے مضبوط فضائی دفاع پر مہر ثبت کر دی۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی ہائی میڈ ویپن سسٹم کا تجربہ دیکھا۔البیضہ ٹو مشقوں کے دوران ہائی ٹو میڈیم ایئر ڈیفنس ویپن سسٹم، لو ٹو میڈیم ایئر ڈیفنس سسٹم، شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم اور ایکسٹینڈڈ شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم کو جانچا گیا۔
اب اگر بات کی جائے فتح ٹو ویپن سسٹم کی کارکردگی گی تو اس کا اندازہ مشرقی پڑوسیوں کے دفاعی تجزیہ نگاروں کے لٹکے ہوئے چہرے دیکھ کرلگایا جا سکتا ہے کیونکہ آج کل کی مروجہ ٹرمنالوجی میں بھارتی ردعمل کا خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ بنتا ہے کہ اس کا روس سے اربوں ڈالر مالیت کا خریدا جانے والا ایس فور ہنڈرڈ ڈیفنس سسٹم “وڑ” چکا ہے۔
پاکستان کے فلیٹ ٹرجیکٹری والے فتح ٹو ویپن سسٹم کی بدولت بھی بھارت کو ایک اور سرپرائز ملا ہے۔ فتح ٹو ویپن سسٹم پاکستان کا اپنا تیار کردہ گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم ہے۔
فتح ٹو کے بے مثال ایویانکس،حساس ترین نیوی گیشن سسٹم اور منفرد فلائٹ ٹرجیکٹوری اسے دشمن کے لئے سیدھا سیدھا تباہی اور موت کا پیغام بناتی ہے۔
فتح ٹو انتہائی باریک بینی سے اپنے ہدف کو 400 کلومیٹر کی رینج میں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا کر تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے اس سے پہلے دو ہزار اکیس میں فتح ون کا کامیاب تجربہ کیا تھا اور اب محض دو برس کے عرصے میں فتح ویپن سسٹم کا نیا ورژن 400 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ دشمن کی نیندیں اڑنے کے لیے میدان میں آچکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے دفاعی منصوبہ ساز بھارت کا اس کے گھر میں گھس کر بینڈ بجانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
فتح ون کی ڈیڑھ سو کلومیٹر رینج سے فتح ٹو کی 400 کلومیٹر رینج تک کا سفر یقیناً سائنس دانوں اور انجنئئرز کی زبردست پلاننگ،ریسرچ کا نتیجہ ہے۔فتح ٹو نہ صرف فتح ون ،چینی ساختہ اے ون ہنڈرڈ، یرموک سیریز بلکہ نصر ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کو بھی پاکستان کی راکٹ آرٹلری انوینٹری میں سپورٹ فراہم کرے گا۔
ذرائع کے مطابق سیٹلائٹ نیویگیشن اور انرشئیل نیویگیشن کے ساتھ پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت والا فتح ٹو پاک فوج کی جانب سے ملٹی لئیرڈ راکٹ آرٹلری انوینٹری کا حصہ ہے۔
دوسری طرف فتح ٹو کی بدولت بھارت کا اربوں ڈالر مالیت کا ایس فور ہنڈرڈ ڈیفنس سسٹم ناکارہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے یوکرین جنگ کے ساتھ آذربائیجان اور آرمینیا کے تنازعے سے سبق سیکھتے ہوئے فتح ٹو ویپن سسٹم کو ڈویلپ کرنے کا کام انتہائی ذہانت سے انجام دیا ،اب کسی بھی بومبارڈمنٹ کے دوران پاکستان کی جانب سے فائر کیا جانے والا فتح ٹو ڈیکوائے کا کام کرتے ہوئے کومبیٹ ڈرون کی جانب سے بذات خود ایس فور ہنڈرڈ کو ٹارگٹ کرنے کا کام آسان بنائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے بالخصوص زمینی جنگ کے میدان میں فتح ٹو کی اینٹری سے بھارت نے اب گھبرانا شروع کر دیا ہے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کا سارا زور اس بات پر ہے کہ فتح ٹو کو پاکستان کے بجائے چینی ٹیکنالوجی یا چین کی فراہم کردہ اعانت کا نتیجہ قرار دیا جائے۔
چینی ہو یا پاکستانی فتح ٹو میدان میں موجود ہے اور بالخصوص رینج کے معاملے میں اسے بھارتی آرٹلری پر ایسی برتری حاصل ہے جس کا فی الحال دور دور تک کوئی توڑ نہیں۔فتح ون کے بعد فتح ٹو سے پاکستان کو بھارت پر ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہو چکی ہے۔
فتح ویپن سسٹم کی کامیابی کے برعکس بھارت کا گائیڈڈ پناکا ملٹی بیرل راکٹ سسٹم ابھی تک پروڈکشن کے مرحلے میں داخل نہیں ہو سکا اور فتح ٹو کے چار سو کلومیٹر کے مقابلے میں اس کی رینج بھی صرف 90 کلومیٹر ہے۔ اب یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین بھی بھارت کے خلاف اپنے سپیرئیر رینج والے راکٹ آرٹلری سسٹمز میدان میں لا چکے ہیں۔
لداخ میں چینی فوج سے جھڑپ کے بعد بھارتی فوج نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو راکٹ سسٹم بنانے کی درخواست کی تھی جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔بھارت کی ڈی آر ڈی او جو ہوائی قلعے بنانے میں مشہور ہے ابھی تک ڈیڑھ سو اور اڑھائی سو کلومیٹر والے راکٹ سسٹمز پر کام کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چین بلکہ اب پاکستان کے سامنے بھی بھارتی سینا کی پوزیشن کافی کمزور ہے۔
بھارت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی آر ڈی او کی کوتاہ بینی یعنی کہ وقت اور حالات کے تقاضوں کو نہ سمجھنے کی قیمت چکانا پڑے گی۔فتح ٹو کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان آرٹلری راکٹ سسٹمز کے حوالے سے بڑھتا ہوا فرق نئی دہلی کے لئے پریشان کن ہے کیونکہ جدید جنگ میں کسی بھی ویپن سسٹم کی رینج ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔