عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دہشت گردی کے کیسز میں ضمانتیں منسوخ کرنےکیخلاف درخواستوں پرتمام ایف آرزکے تفتیشی افسران کو طلب کرلیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی دہشت گردی کیسوں میں ضمانتیں منسوخ کرنے کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ دو رکنی بنچ نے بانی پی ٹی آئی کی سات درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے استفسارکیا کہ جن مقدمات کی پٹیشن ہمارے پاس ہیں کیا اس میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈال دی ہے؟ وکیل سلمان صفدرنے جواب دیا کہ اتناعرصہ ہوگیا ہے ہم نہ عبوری ضمانتیں اور نہ ہی بعدازگرفتاری درخواستیں دائر کرسکتے ہیں، ہمیں کچھ نہیں پتہ چل رہا ہم کس طرف جائیں۔
لاہورہائی کورٹ نے تمام ایف آئی ارز کے تفتیشی کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
وکیل درخواست گزارنے مؤقف پیش کیا کہ درخواست گزاردہشت گردی عدالت میں مسلسل پیش ہوتے رہے، دوران ٹرائل درخواست گزار کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنا دی۔ پولیس نے درخواست گزار کو گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا۔ درخواست گزار جیل میں ہونے کی بنا پر انسدادِ دشت گردی عدالت میں پیش نہ ہوئے۔
وکیل درخواست گزارنے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی انکی لی گئی ضمانتوں کو کینسل کر دیا، استدعا ہے کہ عدالت ٹرائل کورٹ کے ضمانتوں کو کینسل کرنے کے 11اگست کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔
