ایران میں حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والی دو خاتون صحافیوں کے خلاف ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
قطری خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ایران کی عدلیہ نے جیل سے عارضی رہائی کے بعد حجاب کے بغیر پیش ہونے پر جیل میں قید دو خواتین صحافیوں کے خلاف ایک نیا مقدمہ کھول دیا ہے۔
نیلوفر حمیدی اور الہیح محمدی کے خلاف ضمانت پر رہا ہونے کے ایک دن بعد پیر کے روز ان کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ان دونوں کو 2022 میں کرد ایرانی ماہسا امینی کی حراست میں موت کی رپورٹنگ کرنے پر بالترتیب 13 اور 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
رہائی کے بعد دونوں صحافیوں کی جیل کے باہر مسکراتے اور ہاتھ تھامے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
عدلیہ کی نیوز ایجنسی نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حجاب کے بغیر مدعا علیہان کی فوٹیج آن لائن جاری ہونے کے بعد ان کے خلاف ایک نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ صحافیوں کی رہائی کی شرائط انہیں بیرون ملک سفر کرنے سے روکتی ہیں۔
امینی کی موت اس وقت ہوئی جب انہیں ملک کی اخلاقیات کی پولیس نے سخت ڈریس کوڈ کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد کئی ماہ تک حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے۔
اس بدامنی میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اکتوبر میں عدلیہ نے کہا تھا کہ ان دونوں کو امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے، ریاستی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ایران کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کا مجرم پایا گیا ہے۔




















