جاپان کو اب بھی امید ہے کہ وہ گزشتہ کئی گھنٹوں سے بند سلم مون لینڈر کو دوبارہ اسٹارٹ کی جا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جاپان کی خلائی ایجنسی جیکسا کا کہنا ہے کہ اگر سورج کی روشنی صحیح جگہ پر ٹکراتی ہے تو جاپان اپنے مون لینڈر کو بچانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
بجلی بچانے کے لیے ہفتے کے روز چاند پر تاریخی لینڈنگ کے صرف تین گھنٹے بعد سلم خلائی جہاز کو بند کر دیا گیا تھا۔
انجنیئروں نے محسوس کیا تھا کہ اس کے شمسی سیل سورج سے دور مغرب کی طرف ہیں اور بجلی پیدا نہیں کر سکتے ہیں۔
لیکن مشن ٹیم کو اب امید ہے کہ روشنی کے حالات میں تبدیلی کے ساتھ صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔
جیکسا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سورج کی روشنی مغرب سے چاند سے ٹکراتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ بجلی کی پیداوار کا امکان ہے اور ہم فی الحال بحالی کی تیاری کر رہے ہیں۔
جاپان کے مون لینڈر جسے پریسیشن لینڈنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے مون اسنائپر کا نام بھی دیا گیا تھا ، نے جاپان کو تاریخ کا صرف پانچواں ملک بنا دیا جس نے چاند پر پہنچ کر یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
واضح رہے کہ جاپان کے اپنے مون لینڈر کو کنٹرول شدہ اترنے کو مکمل ہوتے دیکھنے کی خوشی جلد ہی تشویش میں بدل گئی کیونکہ چاند کی سطح پر بجلی ختم ہو گئی تھی۔
جاپان کی خلائی ایجنسی جیکسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نظام کو مکمل طور پر ہموار ہونے دینے کے بجائے کرافٹ کو شٹ ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
جاپان کی خلائی ایجنسی جیکسا کے ترجمان کے مطابق ہمارے طریقہ کار کے مطابق بیٹری کو 12 فیصد بجلی کے ساتھ منقطع کر دیا گیا تھا، تاکہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے جہاں مون اسنائپر کی دوبارہ شروعات میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔




















